Buy website traffic cheap


پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے ، شاہ محمود قریشی

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ امن کےلئے مذاکرات ضروری ہیں ،پاکستان کبھی مذاکرات سے پیچھے نہیں ہٹا ، اگر جارحیت مسلط کی گئی تو اس کا منہ توڑ جواب دیں گے،26فروری 2019کو ہندوستان نے بالاکوٹ پر حملہ کیا اور نریندر مودی نے سیاسی کامیابی کےلئے پلوامہ کاڈرامہ رچایا، وقت کے ساتھ ظاہر ہو گیا کہ مودی نے سیاسی مقاصد کے حصول کےلئے یہ اقدام اٹھایا تھا،مقبوضہ کشمیر میں جاری لاک ڈاﺅن پر یورپی پارلیمنٹ نے بھی تشویش کا اظہار کیا۔

ہفتہ کووزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کے حوالے سے اپنے ویڈیو بیان میں کہا کہ26فروری 2019کو ہندوستان نے بالاکوٹ پر حملہ کیا اور نریندر مودی نے سیاسی کامیابی کےلئے پلوامہ کاڈرامہ رچایا، وقت کے ساتھ ظاہر ہو گیا کہ مودی نے سیاسی مقاصد کے حصول کےلئے یہ اقدام اٹھایا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے بھارتی پائلٹ کو خیر سگالی کے طور پر بھارت واپس بھیجا، ہماری امن کے لیے جدوجہد سب کے سامنے ہے،شاہ محمود قریشی نے کہا پاک فضائیہ کے شاہینوں نے پوری قوم کا سر فخر سے بلند کیا اور بھارت کے 2 طیارے گرا کر بھرپور جواب دیا، پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے، ہمارے ردعمل کا مقصد کسی کونیچا دکھانا نہیں بلکہ اپنے دفاع کے لیے آگے بڑھنا تھا، پاکستان کے لیے ہمیشہ امن کا قیام اولین ترجیح رہی ہے ۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ظاہرہوگیا مودی نے سیاسی مقاصد کیلئے یہ اقدام اٹھایا، مودی نے سیاسی کامیابی کیلئے پلوامہ کا ڈراما رچایا، بھارتی صحافیوں کی واٹس ایپ چیٹ سے پلوامہ ڈرامے کی حقیقت واضح ہوگئی،وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان امن عمل ہو یا پھر کرتارپورراہداری سب اقدامات ہماری خواہش کا عکس ہے، پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے،انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کشمیر کے سفیرہیں، وزیراعظم عمران خان نے ہرفورم پر مسئلہ کشمیر کا معاملہ اٹھایا،وزیرخارجہ نے کہا کہ ہندوستان کو بتا دیا تھا کہ اگر اس نے جارحیت کی تو اس کو منہ توڑ جواب دیں گے اور ہم نے جہاز گرایا اور پوری دنیا نے دیکھا کہ امن کےلئے ہندوستانی پائلٹ کو واپس کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے کرتارپور راہداری کھولا، مودی کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں اٹھائے جانے والے اقدامات کو کشمیریوں نے یکسر مسترد کیا جبکہ ہندوستان کے دانشور طبقے نے بھی مودی کی کشمیر پالیسی کو ناکامی قرار دیا ہے اور دنیا دیکھ رہی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی ہو رہی ہے ، مودی حکومت نے خطے کا امن متاثر کیا۔ انہوں نے کہا کہ سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ نے دورہ پاکستان میں مقبوضہ کشمیر کی بگڑتی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور ہندوستان میں امتیازی شہری قوانین پر عالمی انسانی حقوق کے ادارے نے ہندوستانی سپریم کورٹ سے رجوع کیا جبکہ وہاں پر اقلیتوں کے انسانی حقوق کی پامالی کی جا رہی ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ برطانیہ کی پارلیمنٹ میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر مباحثہ ہوا اور مقبوضہ کشمیر میں جاری لاک ڈاﺅن پر یورپی پارلیمنٹ نے بھی تشویش کا اظہار کیا۔ وزیرخارجہ نے کہا کہ خطے کے امن کو متاثر کرنے والے مسائل کو دونوں طرف سے حل کرنا ہو گا، امن کا راستہ حاصل کرنے کےلئے مذاکرات ضروری ہیں جبکہ پاکستان کبھی مذاکرات سے پیچھے نہیں ہٹا ، پاکستانی قوم ہمیشہ امن کو ترجیح دیتی ہے لیکن ہم پر اگر جارحیت مسلط کی گئی تو اس کا منہ توڑ جواب دیں گے۔