Buy website traffic cheap

spinach

پالک کے پودے دنیا کو آب و ہوا کی اطلاعی ای میل کرنے لگے

بوسٹن: اب بے زبان پودے بھی ای میل کے ذریعے دنیا کو آب و ہوا میں تبدیلی اور اپنی روداد سنانے لگے ہیں۔ اس ضمن میں سب سے پہلے پالک کے پودوں نے زبان کھولی ہے۔اگرچہ یہ سائنس فکشن فلم کا منظر یا مستقبل کا منظرنامہ لگتا ہے لیکن ایم آئی ٹی (میساچیوسیٹس انسٹی ٹٰیوٹ آف ٹیکنالوجی) کے ماہرین نے پالک کے پتوں کو نینوٹیکنالوجی سے لیس کیا ہے اور وہ انہیں ای میل بھی بھیجنے لگے ہیں۔

اس سے قبل نینوٹیکنالوجی کی بدولت ایم آئی ٹی کے ماہرین پالک کو بارودی مواد شناخت کرنے والے سینسر میں بھی تبدیل کرچکے ہیں۔ اس کے بعد پودے وائرلیس سے اس کی اطلاع دینے کے قابل ہوگئے۔ اس طرح ایک سادہ سا پودا بارود کا شناختی نظام بن سکتا ہے۔پودے زمین کے نیچے پانی میں نائٹروایئرومیٹکس مرکبات کو محسوس کرسکتے ہیں۔ یہ کیمیکل بارودی سرنگوں والی زمین میں عام پائے جاتےہیں۔ لیکن پودوں کی کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔ ایم آئی ٹی کے پروفیسر مائیکل اسٹرانوں کہتے ہیں کہ پودے اپنی ذات میں تجزیاتی کیمیاداں (اینالیٹکل کیمسٹ) ہوتے ہیں۔ ان کی جڑیں مستقل زمینی پانی جمع کرتی رہتی ہیں اور اسے پورے پودے تک پہنچاتی ہیں۔

ماہرین اس کیفیت کو سمجھ کر پودوں کو ماحولیاتی آلودگی، موسم کے اتار چڑھاو¿ اور آب و ہوا میں تبدیلی نوٹ کرنے کا سینسر بنایا جاسکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق پودے اطراف سے بہت سارا ڈیٹا جذب کرتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ وہ ماحولیاتی تبدیلیوں کو اچھی طرح نوٹ کرسکتے ہیں۔ اس علم کو ’نیوبایونکس‘ کا نام دیا گیا ہے۔

اسی ٹیکنالوجی کے تحت پودے کے درخت خود تک آنے والی فضائی کیفیات، ماحولیاتی معلومات اور دیگر ڈیٹا کو سینسر سے جمع کرتے ہیں اور اس کا احوال بذریعہ ای میل سائنسدانوں کو بھیجتے رہتے ہیں۔ یہ پورا نظام ایک کھیت کے ساتھ لگایا گیا جو انٹرنیٹ آف تھنگس (آئی او ٹی) کے ضمن میں آتا ہے۔