Buy website traffic cheap

Shahid Nadeem Ahmad

اقوام عالم کا دوہرا معیار

اسرائیل کے بیت المقدس غزہ اور مغربی کنارے کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں پروحشیانہ حملے آٹھویں روز بھی جاری ہیں،امن، سلامتی اور انسانی حقوق کے علمبردار سپر پاور امریکہ نے تیسری بار اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے اسرائیل میں جاری تشدد کے بارے میں مشترکہ بیان کی مخالفت کردی ہے۔ امریکہ اور مغربی ملکوں کی جانب سے اسرائیل کی کھلی حمایت اور عملی پشت پناہی کی بدولت سلامتی کونسل اور اسلامی تعاون تنظیم بھی صیہونی جارحیت رکوانے میں بری طرح ناکام ہو گئی ہیں ،عالمی دنیا کے دوہرے معیار کو دیکھتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم نے نہایت دیدہ دلیری سے اعلان کیا ہے کہ ہم جب تک چاہیں گے، بیت المقدس غزہ پر حملے جاری رکھیں گے۔
اس میں شک نہیں کہ سلامتی کونسل سے زیادہ فلسطینی باشندوں نے او آئی سی سے اپنی اُمیدیں وابستہ کررکھی تھیں، تاہم او آئی سی ایک قرار دادمنظور کرنے سے زیادہ کچھ نہ کر سکی ،او آئی سی نے قرار داد منظور کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور عالمی برادری سے کہا ہے کہ وہ اسرائیل کو روکنے کے اقدامات کرے، سلامتی کونسل اور او آئی سی جس وقت اسرائیل کے خلاف قرار داد مذمت پاس کر کے اپنی ذمہ داریوں کا بوجھ اتار رہی تھی، اسی لمحے اسرائیل کے طیارے اور میزائل فلسطینی آبادیوں کو ملبے میں تبدیل کر رہے تھے، اسرائیل کی ڈھٹائی اور بے خوفی اس حد تک جا پہنچی ہے کہ عالمی دنیا کی پرواہ کیے بغیر نیتن یاہو فلسطینیوں پر حملے جاری رکھنے کا اعلان کر رہے ہیں۔
اسرائیل کی جاریحانہ پالیسیاں بجا طور پر صرف فلسطین کے باشندوں کے لئے خطرہ نہیں، بلکہ اردن‘شام‘ عراق‘ ایران‘عرب ممالک اور ترکی و پاکستان جیسے ممالک بھی متاثر ہو رہے ہیں،یہ پالیسیاں نسلی امتیاز کو بڑھاوا دے رہی ہیں،اس سے خطے اور دنیا کا امن داﺅ پر لگا ہے،اس کے باوجود نام نہاد مہذب دنیا کو اسرائیل کے وجود سے اس قدر محبت ہے کہ ایک قرار داد مذمت تک متفقہ طور پر منظور کرنے کو تیار نہیں ہیں، خصوصاً امریکہ فرانس اور برطانیہ کا امتیازی رویہ مستقبل میں نئے خطرات کا خدشہ پیدا کر رہا ہے۔
یہ صورت حال اس امر کی متقاضی ہے کہ مسلم ریاستیں سلامتی کونسل کی طرف دیکھنے کی بجائے اپنے مفادات کا خود تحفظ کریں، اسرائیل اور اس کے مظالم کی حمایت کرنے والی ریاستوں سے تجارتی تعلقات پر نظرثانی‘فلسطینیوں کے لئے فوری امداد کی فرا ہمی اور فلسطینیوں کو مضبوط کرنے کے سلسلے میں اقدامات بلاتاخیر ہونے چاہئیں،خاموشی ،لاتعلقی اور دوغلانہ رویئے نے اُمت مسلمہ کی یکجہتی کو بہت نقصان پہنچایا ہے،تاہم پاکستان آج اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کی دیرینہ پالیسی پر قائم ہے،فلسطینیوں کے کاز کے حامی بڑے مسلمان ممالک اپنا م¶قف تبدیل کرنے پر مجبور ہوئے، مگر پاکستان اپنے اس متعین راستے سے ہٹانہ موقف میں کوئی تبدیلی آئی ہے۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کہ بیشتر مسلم ممالک غیرملکی طاقتوں کے آلہ کار نہیں تو سہولت کار ضرور بن چکے ہیں، تاہم مجموعی طور پر دیکھا جائے تو دنیا کے بیشتر ممالک میں فلسطینیوں کی حمایت میں روزانہ ہونے والے مظاہرے ظاہر کرتے ہیں کہ حق کیلئے اٹھنے والی آوازیں ابھی کمزور نہیں پڑیں۔ مغربی میڈیا نے بھی موجودہ صورتحال کو اسرائیلی اشتعال انگیزیوں کا نتیجہ بتایا ہے۔ ایمنسی انٹرنیشنل نے نہتے شہریوں پر اسرائیلی حملوں کو جنگی جرائم قرار دیا ہے۔ اقوام متحدہ اگرچہ بیشتر دوسرے عالمی اداروں کی طرح امریکہ اور دوسری سامراجی قوتوں کی آلہ کار ہے تاہم اس کے سیکرٹری جنرل نے اسرائیل سے جنگ بندی کی اپیل کر کے اپنے تیئں اپنا فرض ادا کر دیا ہے، پاکستان بھی فلسطینیوں پر مظالم رکوانے میں اپنی سی تمام تر کوششیں کر رہا ہے، وزیراعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کئی ملکوں کے رہنماﺅں سے ٹیلیفونک رابطے کرنے کے ساتھ فلسطین میں بڑھتی ہوئی کشیدگی میں کمی لانے اور امن کی بحالی کے لیے امریکا کی جانب سے موثر کردار ادا کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیاہے۔
اسرائیل کے فلسطینیوں پر مظالم کم ہونے کی بجائے بڑھتے جارہے ہیں ،اقوام متحدہ اور او آئی سی کے اجلاس بے اثر دکھائی دیتے ہیں ،کیو نکہ عالمی اداروں کی عملی سوچ دوہر ے معیار پر مبنی ہے،دنیا عالم توسوچ رہی تھی کہ جہاں سلامتی کو نسل مذمتی قراداد کی منظوری کے ساتھ اسرائیل مظالم کے تدارک میں نمایاں کر دار ادا کرے گی ،وہیں او آئی سی بھی اسرائیل کا اقتصادی بائیکاٹ کرے گی اوراُنہیں فوجی ایکشن کی دھمکی دے گی، مگر او آئی سی نے تو اسرائیلی جارحیت کی کھل کر مذمت کرنے سے بھی دریغ کیا ہے، اسی طرح سلامتی کونسل نے بھی اسرائیل کی کوئی مذمت نہیں کرنے کی کوشش نہیں کی ہے ،بلکہ اُس سے ایک عاجزانہ سی اپیل کردی ہے کہ سیزفائر کرے، ایسی ہی عاجزانہ و فدویانہ قراردادوں کے جواب میں ہی اسرائیل کے وزیراعظم نے بے پرواہی سے کہا ہے کہ جب تک چاہیں گے غزہ پر بمباری کرتے رہیںگے۔