ملازمتوں کا تحفظ؛ اسٹیٹ بینک نے روزگار اسکیم کی حد اور دائرہ کار بڑھا دیا

کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے کورونا کے معاشی اثرات کی وجہ سے نجی شعبہ کے ورکرز کی ملازمتوں کے تحفظ کے لیے قرضوں کی سہولت کی ”روزگار اسکیم“ کی حد اور دائرہ کار میں اضافہ کردیا ہے۔

اب ڈپازٹ جمع نہ کرنے والے مالیاتی ادارے بھی روزگار اسکیم سے استفادہ کرسکیں گے۔ انشورنس کمپنیاں، انویسٹمنٹ ٹرسٹ، میوچل فنڈز اور ہاو س بلڈنگ فنانشل انسٹی ٹیوٹ بھی اپنے ملازمین کو 3 ماہ کی تنخواہوں کے لیے قرض لے سکیں گے۔ اسٹیٹ بینک نے تنخواہوں کے لیے قرضوں کی حد میں اضافہ کردیا ہے۔3 ماہ کے لیے 50 کروڑ روپے کی تنخواہوں کے لیے روزگار اسکیم سے 100 فیصد سرمایہ حاصل کیا جاسکے گا۔ اس سے قبل 50 کروڑ روپے کی تنخواہوں کے لیے 20 کروڑ یا 75 فیصد سرمایہ فراہم کررہا تھا۔

روزگار اسکیم کے تحت قرضوں کی حد 20 کروڑ سے بڑھا کر 50 کروڑ روپے کردی گئی ہے۔ جن صنعتوں اور کاروباری اداروں کو3 ماہ کی اجرتوں کے لیے 50 کروڑ روپے کی ضرورت ہوگی وہ 100 فیصد سرمایہ حاصل کرسکیں گے۔ تین ماہ کی تنخواہوں کی مد میں 50 کروڑ روپے سے زائد کی ضرورت کی صورت میں کاروباری ادارے 75 فیصد یا زیادہ سے زیادہ ایک ارب روپے کا سرمایہ حاصل کرسکیں گے۔
اس سے قبل3 ماہ میں 50 کروڑ سے زائد تنخواہیں دینے والے اداروں کی حد 37 کروڑ 50 لاکھ یا 50 فیصد تھی۔3 ماہ کے لیے 50 کروڑ سے زائد اجرتیں ادا کرنے والے اداروں کی زیادہ سے زیادہ حد 50 کروڑ سے بڑھا کر ایک ارب روپے کردی گئی ہے۔ 3 ماہ کی اجرتوں کے لیے قرضوں کی اسکیم کی حد میں اضافہ کیا گیا ہے20 کروڑ سے کم یا 20 کروڑ روپے تک کی اجرتوں کے لیے 100 فیصد سرمایہ حاصل کیا جاسکے گا۔ ورکرز کو فارغ نہ کرنے والے ادارے 50 کروڑ روپے کی اجرتوں کے لیے 100 فیصد سرمایہ بطور قرض حاصل کرسکیں گے۔3 ماہ کے لیے 50 کروڑ روپے سے زائد اجرتیں ادا کرنے والے ادارے 75 فیصد سرمایہ یا زیادہ سے زیادہ ایک ارب روپے حاصل کرسکیں گے