مضبوط پاکستان کی بنیادباکردار عوام ہیں … عمران امین

اللہ تعالیٰ نے لکڑی کو پیدا کیا مگر کشتی نہ بنائی۔اُس نے لوہا زمین میں دفن کر دیا مگر لوہے کو کسی پرزے کی شکل میں نہ ڈھالا۔اللہ نے پلاسٹک اُور ایلومینیم بنایا مگراُس سے کسی بھی نئی چیز کو تخلیق نہ کیاحالانکہ وہ اس بات کی قدرت رکھتا ہے پھر ایسا نہ کرنے کی وجہ کیا ہے؟۔بات یہ ہے کہ جب اللہ نے ایک طرف خام مال پیدا کیا اُور دوسری طرف انسان کو عقل کی صلاحیت عطا کی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ رب کی یہ منشاء ہے کہ انسان اپنی عقل سے بغیر گھڑے ہوئے مادے کو گھڑے ہوئے مادے میں تبدیل کرے۔یادرکھیں!بالکل ان بے جان اشیاء کی طرح انسان بھی اپنی ابتدائی صورت میں ایک خام مواد ہے جبکہ رب کائنات نے انسان کو بہترین شخصیت میں ڈھالا اُوراعلیٰ ترین وجود عطا کیا۔اب یہ کام انسان کاہے کہ وہ خدا کے بخشے ہوئے ابتدائی وجود کی تشکیل نو کرتے ہوئے اپنے شعور کو معرفت میں ڈھالے اُوراپنے احساسات کو ذکر الٰہی میں تبدیل کرے۔ یاد رہے کہ ہر انسان اپنی ماں کے پیٹ سے قوت گویائی لے کر پیدا ہوتا ہے۔اب اس انسان کے اختیار میں ہے کہ وہ اپنی قوت گویائی کو حق کے اعتراف کی طرف لے جاتا ہے یا حق کے انکار کی طرف۔دراصل ہر انسان فطرت کی ایک زمین ہے کوئی اپنی زمین پر کانٹے اُگاتا ہے اُور کوئی ہے جو اپنی زمین پر پھولوں کا باغ،کوئی اپنے آپ کو جنت کا باشندہ بناتا ہے اُور کوئی جہنم کا۔لیکن ایک بات سچ اُور اٹل حقیقت ہے کہ ہو سکتا ہے دنیا میں منافقت بازی لے جائے مگر آخرت میں سچے لوگ ہی کامیاب ہوں گے۔سوچنے کی بات یہ ہے کہ آج کے انسان کا مسئلہ کیا ہے؟وہ مادیت پسندی کی طرف کیوں مائل ہے؟ظاہری شان وشوکت ہی اُس کی منزل کیوں ہے؟۔آج کاانسان معاشرتی قدروں کی بد حالی اُوراخلاقیات کی پامالی کے باوجود مطمئن کیوں ہے؟۔ زندگی کی آسائشیں اکٹھی کرنے میں ہی کیوں مصروف ہے؟۔وجہ صرف اُور صرف یہ ہے کہ آج کے انسان نے مادی ترقی کو ہی اپنی راحت و آرام کا سبب مان لیا ہے اُور دنیا کی کامیابی کو ہی سب کچھ جان لیا ہے۔دریا کی سیر پر آئے ایک بڑے صنعت کار نے حیرت سے ایک مچھیرے کو دیکھا جو اپنی کشتی کنارے پر لگائے اطمینان سے بیٹھا سگریٹ پی رہا تھا۔”تم یوں آرام کرنے کی بجائے مچھلیاں کیوں نہیں پکڑ رہے؟“۔صنعت کار نے تجسس سے پوچھا۔”میں آج کے دن پہلے ہی کافی مچھلیاں پکڑ چکا ہوں“۔”تم مزید کیوں نہیں پکڑرہے؟“۔”میں مزید پکڑ کر کیا کروں گا؟“۔ ”تم زیادہ پیسے کما سکتے ہو“۔امیر صنعت کار بولا۔”پھر تمہارے پاس نئی موٹر والی کشتی ہوگی،جس سے تم گہرے پانیوں میں جا کرزیادہ مچھلی پکڑ سکوگے یوں تمہارے پاس نائیلون کاجال خریدنے کے لیے پیسے اکٹھے ہو جائیں گے اس سے تم زیادہ تعداد میں مچھلیاں پکڑو گے اُور زیادہ پیسے کماسکو گے۔جلد ہی اُس رقم کی بدولت تم دو کشتیوں کے مالک بن جاؤ گے۔ہو سکتا ہے چند سالوں بعدتمہاراذاتی جہازوں کا ایک بیڑا ہو اُور تم میری طرح امیر ہو جاؤ۔ مچھیرے نے ساری بات سن کرمتجسس ہوکر پوچھا”اس کے بعد میں کیا کروں گا؟“۔امیر آدمی نے کہا”پھر تم آرام سے بیٹھ کر زندگی کا لطف اُٹھانا“۔مچھیرے نے استفہامیہ انداز میں پوچھا”تمہیں کیا لگتا ہے کہ میں اس وقت کیا کر رہا ہوں؟“۔یاد رکھیں ایک اچھا معاشرہ اس وقت بنتا ہے جب اس کے انسان حقیقی معنوں میں انسان ثابت ہوں۔جہاں پختگی کی ضرورت ہو، وہاں وہ لوہے کی طرح پختہ بن جائیں۔جہاں نرمی کی ضرورت ہو، وہاں وہ موم کی طرح نرم ہو جائیں۔جہاں چپ رہنے کی ضرورت ہو، وہاں وہ پتھر کی طرح خاموش ہو جائیں اُورجہاں ٹھہرنے کی ضرورت ہو، وہاں وہ پہاڑ کی طرح کھڑے ہو جائیں۔ آج ارض پاکستان کو بھی ایسے ہی کرداروں کی ضرورت ہے جو کسی بھی معاشرے کو اچھا بناتے ہیں۔خوش قسمتی سے اس پاک سرزمین کی زرخیزمٹی نے کئی نامور لوگوں کو جنم دیا ہے جن کو ساری دنیا عزت و احترام کی نظر سے دیکھتی ہے مگر عوام کی اکثریت ابھی بھی اپنے اندر وہ جوہر پیدا نہیں کر سکی جوایک متحرک اُور جاندار قوم کا خاصہ ہوتا ہے۔انفرادی سوچ اُور مال و زر کی ہوس نے اس قوم سے اجتماعی سوچ اُور باکردار ہونا چھین لیا ہے۔ دنیا کے تمام معاشرتی اجتماعی نظاموں میں معاشرے کے سب افراد منسلک ہوتے ہیں اُوراس وجہ سے ہر فرد کو اپنے اپنے مقام پر کوئی نہ کوئی کردار ادا کرنا ہوتا ہے۔اسی کردار کی صحیح ادائیگی پر معاشرے کے قیام کا انحصار ہوتا ہے لیکن تشویشناک بات اُس وقت ہوتی ہے جب افراد اپنے کردار سے ہٹ جاتے ہیں۔اگر برف کی فیکٹری میں پانی جمنے کی بجائے بھاپ بن کر اُڑنے لگے تو آئس فیکٹری کا وجود بے معنی ہوجاتا ہے بالکل اسی طرح اگر بھٹی میں لوہا ڈالا جائے اُور وہ پگھلنے سے انکار کر دے تو ایسی بھٹی بیکار سمجھی جاتی ہے۔ایسا ہی معاملہ کسی بھی ایسے معاشرے کا ہوتا ہے جہاں افراد اپنامتعین کردار ادا کرنے سے قاصر ہوتے ہیں توساری معاشرت درہم برہم ہو جاتی ہے۔آج ہمارا معاشرہ بھی ایسی ہی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے جہاں ذاتی نفع و نقصان کے گرد ساری انسانی کوششیں جاری ہیں۔وہ سیاست کا میدان ہو،کھیل کا میدان ہو،مذہب کا میدان ہو،ادب کا میدان ہو غرضیکہ ہر طرف سے ”میں ہوں“ اُور”میں ہی ہوں“ کی صدائیں بلند ہوتی سنائی دیتی ہیں۔آئیے! ہم سب پاکستانی یہ عہد کریں کہ ہم سب اپنے اپنے متعین کردہ کردار کو بھرپور انداز میں ادا کرتے ہوئے اُور دوسروں کے معاملات میں دخل اندازی سے گریز کرتے ہوئے ایک نئے عزم سے اپنے آج کا آغاز کریں گے۔جو مواقع گزر گئے انہیں بھول جائیں جو مواقع آج موجود ہیں ان سے فائدہ اُٹھائیں۔ان شاء اللہ آپ کامیاب ہوں گے۔