Buy website traffic cheap


سچ تو یہ ہے!

راﺅ غلام مصطفی
”سچ تو یہ ہے“ممتاز مﺅرخ‘مصنف اور کالم نوےس ڈاکٹر صفدر محمود کی نئی کتاب کا نام ہے جےسے قلم فاﺅنڈیشن انٹر نےشنل نے حال ہی میں شائع کےا پبلشر علامہ عبدالستار عاصم صاحب نے کمال محبت اور اخلاص کے ساتھ اس کتاب کا اےک نسخہ بذرےعہ ڈاک راقم کو ارسال کےا۔یہ کتاب اس حوالہ سے بھی انفرادےت کی حامل ہے کہ ڈاکٹر صفدر محمود کی متعدد کتابےں شائع ہو چکی ہیں لےکن اس کتاب مےں مصنف نے شواہد کے ساتھ بڑے مدلل انداز میں قائد اعظم اور تارےخ پاکستان کے نظرےاتی مخالفین کے بے بنےاد الزامات اور منفی پراپےگنڈا کا جواب دے کر حقائق کو مسخ کرنے والے ناقدین کے منہ بند کر دئےے۔ڈاکٹر صفدر محمود کی اس کتاب نے تاریخ سے رغبت رکھنے والوں میں اپنی مقبولیت کا لوہا منوا کر ایک مستند دستاویز کی حیثیت حاصل کر لی ہے۔ میری نظر میں قائد اعظم اور تارےخ پاکستان کے حقائق کو جس طرح سازشی ٹولہ نے اپنی منفی تحرےروں اور کتابوں کے ذرےعے نوجوان نسل کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ان تمام منفی پراپےگنڈا کو مصنف نے دلائل اور تحقےق کے ساتھ بے نقاب کر کے اور تارےخ کو مسخ کرنے والے سازشی عناصر کا راستہ روک کر تارےخ سے رغبت رکھنے والوں اور نوجوان نسل پر احسان عظےم کےا ہے۔ڈاکٹر صفدر محمود تارےخ پاکستان کے اےسے محقق اور مﺅرخ ہےں جن کی متعدد کتابوں کا دنےا کی مختلف زبانوں مےں ترجمہ ہو چکا ہے صدارتی اےوارڈ ےافتہ مصنف کی تحرےر ےںتواتر کے ساتھ ملک کے مختلف مﺅقر اخبارات مےں شائع ہوتی رہتی ہےں۔ان کی کتاب ”سچ تو ےہ ہے“ تارےخ پاکستان اور قائد اعظم کی حےات کے متعلق اےک اےسا سچ ہے جو پاکستانی تارےخ کے اےک سنہری باب کی حےثےت اختےار کر چکا ہے ۔المےہ ہے کہ ملک مےں حکومت کی سرپرستی نہ ہونے کے باعث کتب خانے نہ ہونے کے برابر ہےں ےہی وجہ ہے کہ صاحب علم و فکر رکھنے والے افراد اےسی مستند کتابوں سے محروم ہےںمصنف کی اس کتاب کا تارےخ سے ذوق رکھنے والوں کو ضرور مطالعہ کرنا چاہےے تا کہ قائد اعظم اور تارےخ پاکستان کے بارے مصنف کی شواہد پر مبنی سرشارمستند تحرےوں سے قائد اعظم کی زندگی اور تارےخ پاکستان کی درست سمت کا جہاں تعےن ہو سکے وہےں حقائق کو مسخ کر کے پےش کرنے والے تارےخ دشمن عناصر کی نشاندہی بھی ہو سکے ےہ کتاب قلم فاﺅنڈےشن انٹر نےشنل ےثرب کالونی بےنک سٹاپ والٹن روڈ لاہور کےنٹ پر دستےاب ہے۔ کتاب دوستی کو پروان چڑھانے کے لئے سرکاری سطح پر کثےر تعداد مےں پبلک لائبرےرےوں کے قےام کی اشد ضرورت ہے تاکہ لوگوں کو کتاب خرےدنے کے لئے کسی فٹ پاتھ کی تلاش نہ کرنی پڑے جہاں علم و فکر سے بےدار تحرےوں سے مزےن کتابےں گرد مےں اٹی نہ ملےں۔ےہ بھی اےک کڑوا سچ ہے کہ جس معاشرے مےں علم و تحقےق اور مطالعہ کا عمل رک جائے وہ معاشرہ ذہنی و فکری طور پر مفلوج ہو جاتا ہے علم دوست معاشرے مےں کتب بےنی قوموں کی زندگی مےں روشن قندےل کی مانند ہوتی ہے جب سے انفارمےشن ٹےکنالوجی نے دنےا کے معاشرے مےں اپنے قدم جمائے اور سوشل مےڈےا کے رجحان مےں اضافہ ہوا تب سے انسان نے اس قندےل سے استفادہ حاصل کرنا آہستہ آہستہ کم کر دےا ہے۔تارےخ شاہد ہے کہ وہی اقوام نے ترقی کے زےنوں پر قدم رکھے اور فاتح اقوام کی صف مےں اپنے آپ کو شمار کرواےا جنہوں نے قلم کو بطور ہتھےار اور کتاب سے اپنا رشتہ قائم رکھا۔تارےخ مےں چند غےر مہذب قوموں کو چھوڑ کر دےکھا جائے تو انہی اقوام نے دنےا کے سامنے اپنے معاشروں کو بہترےن لےبارٹری کے طور پر پےش کےا جنہوں نے اپنی قوم کو کتاب سے دوستی کی ترغےب دی اور کتاب دوست بناےا ۔کتاب انسان کے لئے جہاں اہم علمی و فکری اثاثہ ہے وہےں ےہ انسان کے لئے امےد کا محور بھی ہے کتاب دوستی کی اہمےت سے متعلق معروف فلسفی سقراط کا ےہ قول غور و فکر کا متقاضی ہے کہ ”وہ گھر جس مےں کتابےں نہ ہوں اس جسم کی مانند ہے جس مےں روح نہ ہو“اسی طرح انگرےز دانشور جان ملٹن لکھتا ہے اےک اچھی کتاب عظےم روح کے قےمتی خون سے تحرےر ہوتی ہے اس کو محفوظ کرنے کا مقصد اےک زندگی کے بعد دوسری زندگی کو اس عظےم روح سے آشنا کروانا ہے۔آج بھی مغرب کی ترقی و خوشحالی مےں کلےدی کردار کتب بےنی اور کتاب دوستی کا ہے دنےا بھر مےں جاپان کے اشاعتی کاروبار کی دھاک بےٹھی ہوئی ہے وہاں لوگوں مےں کتاب خرےدنے اور مطالعہ کا رجحان کافی پاےا جاتا ہے جاپان کی آبادی تقرےبا ساڑھے گےارہ کروڑ ہے اور سال بھر مےں تقرےبا اسی کروڑ کتابےں فروخت ہوتی ہےں گوےا ہر جاپانی سال مےں ساڑھے چھ کتابےں ضرور خرےدتا ہے۔تارےخی تناظر مےں دےکھ لےں مسلم تہذےب کتب بےنی اور کتاب دوستی کے حوالے سے منفرد و ممتاز اہمےت کی حامل ہے علوم و فنون کی ترقی مےں اسلامی تہذےب کا کردار لازوال ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے اسلاف علم و تحقےق کی جستجو مےں کس قدر اعلیٰ اقدار کے حامل تھے۔جب تک مسلمانوں مےں کتاب دوستی کا رجحان قائم رہا تب تک دنےا ان کے زےر نگےں رہی لےکن جےسے ہی علم و تحقےق کے دروازے انہوں نے خود پر بند کر لئے تو محکومی و زوال کے دائرے وسےع ہوتے چلے گئے ا ورےہ بات سچ ہے جو قوم کتاب سے جڑی ہو اس قوم کے لئے دنےا کو تسخےر کرنا ناممکن نہےں ۔بغداد کے خلےفہ ہارون الرشےد اور ان کے بےٹے مامون الرشےد تارےخ کا زندہ و جاوےد کردار ہےں خلےفہ مامون الرشےد نے بےت الحکمت کے نام سے اےک عظےم کتب خانہ تعمےر کرواےا جس کا فےض ہلاکو خان کے حملہ بغداد(تےرہوےں صدی) تک جاری رہا ےہ پہلا پبلک کتب خانہ تھا جو اعلیٰ پےمانے پر قائم کےا گےا تھا اور اس بے مثال کتب خانے مےں عربی‘فارسی‘سرےانی اور سنسکرت زبانوں پر مشتمل دس لاکھ کتابےں تھےں۔مسلمانوں کا وہ سنہری دور تھا جس مےں مسلمان معاشرہ کتاب لکھنے‘خرےدنے اور پڑھنے مےں سب سے آگے تھا علم فلکےات‘رےاضی‘طب‘کےمےا اور طبعےات کے مےدان مےں کتاب کی تخلےق و اشاعت اور مطالعہ مسلم معاشرے مےں عام تھا۔وقت کے ساتھ ساتھ مسلم معاشرہ علم و ادب اور کتاب سے دور ہوتا چلا گےا اور اسی کے باعث مسلمان اقوام عالم کی نسبت ترقی کی دوڑ مےں بہت پےچھے رہ گئے ۔بد قسمتی سے آج کتاب سے دوری کا ےہ عالم ہے کہ کتاب جو کتب خانوں کی زےنت سمجھی جاتی تھی فٹ پاتھ پر پڑی ہے اور ےہ ہماری اخلاقی پستی اور علمی پسماندگی کا منہ بولتا ثبوت ہے اسی وجہ سے آج معاشرے سے سچ‘رواداری اور اقدار رخصت ہوتی جا رہی ہےں۔ہمارے اسلاف نے ہمےں کتاب اور علم و ادب سے محبت کا درس دےا ڈاکٹر علامہ اقبال ادب(علم و تحقےق)اور دےن مےں گہرا تعلق بےان کرتے ہوئے اسے قوموں کی خودی کی تعمےر کا اہم ذرےعہ گردانتے ہےں۔عصری تقاضوں کو بھانپتے ہوئے ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت عوامی سطح پر کتاب دوستی کا شعور اجاگر کرنے کے لئے مختلف ثقافتی و ادبی مےلوں اور سرگرمےوں کا انعقاد کرے تاکہ معاشرے مےں نوجوان نسل کو کتب بےنی کی جانب مائل کےا جا سکے پبلک لائبرےرز کا قےام اور ان کی بحالی وقت کی ضرورت ہے۔اگر حکومت کتب بےنی کے حوالے سے ٹھوس عملی اقدامات اٹھائے تو ےقےننا جہاں معاشرے کے افراد مےں کتب بےنی کے رجحان مےں اضافہ ہو گا وہےں معاشرے مےں بسنے والے افراد کی ذہنی و فکری آبےاری بھی ہوگی اور ہم اپنی ثقافتی رواےات کے اچھے محافظ بھی بن سکتے ہےں۔