Buy website traffic cheap


دیانتداری کا انجام

ماہ نور نعیم۔۔۔ ضلع بھکر
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک ملک پر ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ اس کی بیٹی نین تارا بادشاہ کی بہت ہی لاڈلی تھی۔ آئے روز وہ بادشاہ سے کوئی نہ کوئی فرمائش کرتی، جسے بادشاہ بخوبی پوری کرتا تھا۔ وہ اپنی بیٹی نین تارا کے لاڈ اُٹھاتے نہ تھکتا تھا۔ ایک روز جب بادشاہ دربار سجائے بیٹھا تھا تو ساتھ ہی ملکہ کے ساتھ اس کی لاڈلی بیٹھی بھی اپنے خوبصورت لباس میں اپنی والدہ کے ساتھ براجمان تھی۔ جب بادشاہ رعایا سے ان کے تمام مسائل سننے کے بعد اُنہیں حل کر چکا تو بادشاہ نے دربار برخواست کر دیا۔ سب لوگوں کے جانے کے بعد بادشاہ نے اپنا رخ اپنی لاڈلی بیٹی کی جانب کیا اور اس سے اس کی فرمائش جاننا چاہی۔
” ہاں تو نین تارا! آج کیا حکم ہے اپنے ابا حضور کے لئے؟” بادشاہ نے پیار سے اسے مخاطب کرتے ہوئے پوچھا تو وہ مسکراتے ہوئے تیزی سے اپنی جگہ سے اٹھی اور ابا حضور کے ساتھ جا بیٹھی اور لاڈ سے بادشاہ کے گلے میں بازو ڈال دئیے۔
”ابا حضور۔۔۔ہم اپنے ملک کی سب سے زیادہ لذیذ مٹھائی کھائیں گے۔” اس کی آنکھوں میں چمک ابھر آئی تھی۔
” ارے یہ تو کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ہم ابھی وزیر کو حکم دیتے ہیں کہ وہ ہمارے ملک کی سب سے زیادہ لذیذ مٹھائی لے آئے۔”بادشاہ نے کہا۔
” مگر اس کے لئے ایک شرط ہے۔” نین تارا نے کہا۔
” کیسی شرط؟” ملکہ بھی چونک کر نین تارا کی جانب دیکھنے لگی۔
” شرط یہ ہے کہ وزیر جہاں سے مٹھائی لائے، وہاں ہمارا ذکر مت کرے کہ مٹھائی شہزادی نے منگوائی ہے۔ دوسرا یہ کہ وزیر بنا چکھے وہ مٹھائی لے کر آئے۔”شہزادی کی آنکھوں میں عجیب سی چمک تھی۔
وزیر بادشاہ کے حکم کے مطابق ایسی مٹھائی کی تلاش میں نکل کھڑا ہواجو شہزادی نین تارا کو پسند آجائے۔ اس نے کئی لوگوں سے اس بارے میں پوچھا کہ کس علاقے کی مٹھائی اچھی ہے ؟ لوگوں نے اسے کچھ جگہوں سے مٹھائی خریدنے کا مشورہ دے دیا۔ اچانک چلتے چلتے وہ ایک گا¶ں میں پہنچا۔ اس نے دیکھا کہ ایک جگہ ایک درخت کے نیچے ایک نوعمر لڑکی مٹھائی کا تھال سجائے بیٹھی ہے۔ اس نے خوبصورت رنگوں کی یہ مٹھائی دیکھ کر شہزادہ نین تارا کے لئے خرید لی اور واپس محل کی جانب روانہ ہو گیا۔ محل پہنچ کر اس نے وہ مٹھائی شہزادی نین تارا کو پیش کر دی۔ اتنی خوبصورت مٹھائی دیکھ کر نین تارا کے منہ میں پانی بھر آیا اور اس نے بے قراری سے وہ مٹھائی اٹھا کر منہ میں ڈالی مگر مٹھائی کھاتے ہی اس کا منہ بن گیا۔
” یہ مٹھائی عمدہ نہیں ہے۔ ہم تمہیں ایک موقع اور دیتے ہیں۔ اگر اس بار بھی تم ایسی ہی مٹھائی لے کر آئے تو تم سے تمہارا عہدہ چھین لیا جائے گا۔”شہزادی کی آنکھیں غصے سے لال ہو رہی تھیں۔
بس پھر کیا تھا۔ وزیر دوبارہ مٹھائی کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔چلتے چلتے وہ ایک ویرانے میں آنکلا۔ کیا دیکھتا ہے کہ ایک جگہ دھوپ میں ایک لڑکی کھڑی مٹھائی بیچ رہی ہے۔یہ مٹھائی اسی مٹھائی سے ملتی تھی جو نین تارا ناپسند کر چکی تھی۔ اس نے اس سے اس کی بابت پوچھا تو لڑکی کے معصوم چہرے پر اداسی طاری ہو گئی اور آنکھوں میں آنسو آگئے۔(جاری ہے)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔