Buy website traffic cheap


بھارت پر سفری پابندی نسل پرستی نہیں،آسٹریلوی وزیرخارجہ

کینبر:آسٹریلیا کی وزیرخارجہ مارائس پائنے نے ان الزامات کی تردید کی ہے کہ حکومت نے بھارت پر سفری پابندیاں نسل پرستی سے متاثر ہو کر عائد کی ہیں۔

پائنے نے حال ہی میں کہا کہ بھارت سے آسٹریلیا کے سفر پر عارضی پابندی عائد کرنے کا فیصلہ اس ملک سے واپس آنے والے آسٹریلوی شہریوں کے ہوٹل میں قرنطینہ کے دوران نوول کروناوائرس کے بہت زیادہ کیسز سامنے آنے کے ردعمل میں کیا گیا ہے۔

انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ریاستوں اور علاقوں،خاص طور پر ہاورڈ سپرِنگز کے صحت کے نظام پر پڑنے والا بوجھ بہت نمایاں ہے۔چیف طبی افسر کے مشورہ کی بنیاد پر بائیوسکیورٹی ایکٹ کے تحت کئے گئے فیصلے کے مطابق واپس آنے والوں پر عارضی پابندی ہے۔

حکومت نے ہفتہ کے روز اعلان کیا کہ جو شخص روانگی کے وقت سے لے کر 14دن کے اندر بھارت گیا اور پھر وہ آسٹریلیا میں داخل ہوا تو اسے 5سال قید اور بھاری جرمانہ عائد کیاجائے گا۔

عارضی پابندی پر سوموار کے روز سے عمل شروع ہو گیا اور اس پر حکومت 15مئی کو چیف طبی افسر کی مشاورت سے نظرثانی کرے گی۔ان سے پوچھا گیا کہ یہ بنیاد پرست اقدام نسل پرستی سے متاثر ہو کر کیا گیا ہے تو اس پر انہوں نے کہا کہ کسی بھی طرح بالکل نہیں۔