Buy website traffic cheap


اقوام متحدہ کا بھارت کو تشویش سے بھرا مکتوب

انعام الحسن کاشمیری
اقوام متحدہ کے پانچ ماہرین کی جانب سے بھارت کے زیرانتظام جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے10فروری کو حکومت ہند کو لکھا گیا خط ہفتہ 17اپریل کو منظر عام پر آیا ہے۔ ان ماہرین کا تعلق اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی حقوق کے ذیلی شعبوں یعنی اقلیتوں کے مسائل، اظہار رائے کی آزادی کے حق کے تحفظ اور فروغ، پرامن اجتماع اور ایسوسی ایشن کی آزادی کے حق، نسل پرستی، نسلی امتیازی اور اس سے متعلق تشدد کی موجود صورت حال اور مذہب یا عقیدے کی آزادی کے حق سے ہے۔ ان ماہرین نے اپنے مکتوب میں مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے بھارت کی جانب سے پانچ اگست 2019کے اقدام یعنی کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی اور نئے قوانین کے نفاذ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس مکتوب میں کہا گیا ہے کہ 5اگست2019ءسے قبل مقبوضہ جموں وکشمیر کا اپناآئین اور قانون ساز اسمبلی تھی۔
آئین کی دفعہ 370کے ساتھ ایک اور آئینی شق 35اے کو بھی منسوخ کردیا گیا جس کے تحت غیر ریاسی باشندے نہ تو علاقے میں جائیداد خرید سکتے تھے اور نہ سرکاری نوکری کے لیے موزوں تھے لیکن آئین کی ان دفعات کی منسوخی کے بعد اب بھارت کا کوئی بھی شہری مقبوضہ کشمیر میں جائیداد خرید سکتا ہے اور وہاں نوکری کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کو دو حصوں یعنی لداخ اور جموں وکشمیر میں تقسیم کردیا گیا۔ اس مکتوب میں یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ جموں وکشمیر میں شہریت کا نیا قانون علاقے میں آبادی کا تناسب تبدیل ہونے کا سبب بن سکتا ہے اور جموں وکشمیر کے عوام کے لسانی اور ثقافتی حقوق اور مذہب یا عقائد کی آزادی کے حقوق کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔
جن کی 1947ءمیں قائم کیے گئے خودمختار علاقے کے لوگوں کو ضمانت دی گئی تھی۔ مزید کہا گیا ہے کہ نئے ڈومیسائل قوانین کے ذریعے ریاست کے مقامی باشندوں کے مقابلے میں غیر کشمیری افراد کے لیے رہائشی سرٹیفکیٹ کا حصول آسان بنادیاگیا ہے ۔ اس قسم کے قوانین سے ملازمتوں تک مقامی باشندوں کی رسائی کو کم کردیا گیا ہے ۔ مکتوب میں اس امر پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ بھارتی حکومت مقامی نمائندوں کی مشاورت کے بغیر کشمیر کے رہائشی قوانین میں تبدیلی کرسکتی ہے۔ اس مکتوب میں اس امر کی نشاندہی کی گئی ہے کہ رہائشی سرٹیفکیٹ کے اجراءکا عمل تیز ہونے اور مقامی باشندوں کے رہائشی حقوق پر نظر ثانی سے خطے میں اقلیتوں کے مجموعی انسانی حقوق کی صورت حال مزید خراب ہوسکتی ہے۔ ریاست میں فوج کی موجودگی میں اضافے کا بھی خدشہ ہے جس سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خطرہ مزید بڑھ سکتا ہے۔ اس مکتوب کے ذریعے بھارتی حکومت کی توجہ ماضی میں ارسال کیے گئے دیگر مکاتیب کی طرف بھی دلائی گئی ہے جن میں انٹرنیٹ کی بندش، اجتماع اور اظہار رائے کی آزادی کے حقوق پر پابندیوں اور صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی گرفتاریوں اور ہراساں کیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا ۔
ماہرین کاکہنا تھا کہ ان اقدامات سے جموں وکشمیر کے لوگوں کو سیاسی عمل میں بھرپور شرکت کا موقع نہیں مل سکے گا۔ کشمیری، ڈوگری، گوجری، پہاڑی، سکھ ، لداخی اور دیگر اقلیتوں جیسے مقامی گروپوں کو علاقائی حکومت اور اس کے قانون سازی کے اختیار کے خاتمے کی وجہ سے سیاسی نمائندگی اور شرکت کی کمی کا سامنا ہے۔ بھارتی حکومت کو یاد دلایا گیا کہ پانچ اگست 2019ءکے اقدام کے بعد سے کشمیر میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورت حال اور بھارت میں اقلیتوں بالخصوص کشمیری مسلمانوں کے حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں پر پانچ خطوط ارسال کرتے ہوئے اپنی تشویش کا اظہار کیا گیاہے۔
اقوام متحدہ کے اِن ماہرین نے بھارتی حکومت کو یہ خط 10فروری کو ارسال کیا تھا۔ اس سے قبل 5فروری کو پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے صدر اور اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کو خط لکھا تھاجس میں انھیں بھارت کے مقبوضہ کشمیر میں جاری ”سنگین صورتحال” اور جنگ بندی سمیت بھارت کے ”پاکستان کے خلاف معاندانہ اقدامات” سے آگاہ کیا گیا۔
شاہ محمودقریشی نے اقوام متحدہ کی توجہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں کی طرف مبذول کروائی اور بتایا کہ مقبوضہ علاقے کو کالونی بنانے کی بھارت کی غیر قانونی مہم اور سیز فائرلائن کی مسلسل خلاف ورزیوں سمیت، پاکستان کے خلاف بھارت کے متشدد اور معاندانہ اقدامات امن و سلامتی کے لئے شدید خطرہ ہیں اور یہ بھی کہ بھارت کی طرف سے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات بین الاقوامی قانون اور ضوابط کے منافی ہیں۔خط میں اس امر کا بھی تذکرہ کیا گیا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اٹھائے گئے تمام یکطرفہ اور غیرقانونی اقدامات،آبادیاتی ڈھانچے میں تبدیلی، زمینوں پر قبضہ اور فرضی انتخابات ‘شامل ہیں، کی بھی نشاندہی کی اور بتایا کہ یہ سب اقدامات سلامتی کونسل کی اور جنیواکنونشن کی قراردادوں کے خلاف ہیں اور ان کا بھرپور نوٹس لیاجاناچاہے۔
اقوام متحدہ کے ماہرین نے یہ خط یقیناشاہ محمودقریشی کے تحفظات کو ملحوظ رکھتے ہوئے بھارت کو ارسال کیا تاکہ وہ مقبوضہ کشمیر سے متعلق اپنی پالیسیوں اور مستقبل کے مقاصد سے متعلق اقدامات میںتبدیلی لائیے جنھوں نے ایک جانب کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ کرتے ہوئے مقامی آبادی کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ کیا ہے تو دوسری جانب ریاست کی اس حیثیت کو بھی مجروح کرنے کی کوشش ہے جو وہ ایک تنازع کی صورت میں موجود تھی۔ اگرچہ مکتوب میں پانچ اگست کے بعد سیاسی صورت حال کا زیادہ ذکر کیا گیا ہے لیکن بنیادی عوامل جیسے انسانی حقوق کی زبردست خلاف ورزیوں کو بھی اس میں بیان کیا گیا ہے اور صاف بتادیاگیاہے کہ ایسے اقدامات پر اقوام متحدہ کو سخت تشویش ہے۔ حیرت انگیز طور پر بھارتی حکومت کی جانب سے اس مکتوب کے جواب میں کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔ بادی النظر میں یہ دکھائی دیتا ہے کہ اقوام متحدہ کی اسی تشویش کو سامنے رکھتے ہوئے 23مارچ کو وزیراعظم مودی کی جانب سے یوم پاکستان پر خیرسگالی پر مبنی پیغام ارسال کیا گیا۔ یہ اگرچہ ایک اچھی روایت ہے لیکن بعد میں وزیراعظم پاکستان نے برملا اس امر کا اظہار بھی کردیا کہ مسئلہ کشمیر کے حل ہونے تک بھارت سے دوستانہ تعلقات کا معمول پر آنا ممکن نہیں۔