Buy website traffic cheap


اپوزیشن کی کمزوری اور مولانا فضل رحمن کا موقف

بادشاہ خان
بادی النظر میں ایسا نظر آرہا ہے کہ اپوزیشن کی امیدیں اب بھی امپائر سے وابستہ ہیں ، فی الفور حکومت کے خلاف کوئی اقدام اٹھانے کو تیار نہیں،حکومت کو مزید وقت دے دیا گیا، اسی لئے اگلے سال لانگ مارچ کا اعلان سامنے آیا، دوسری وجہ اپوزیشن کی تقسیم کی وجہ ان جماعتوں کے صوبائی مفادات ہیں ، جس کی وجہ سے آل پارٹیز کانفرنس میں مولانا فضل رحمن کی تقریر نہ دکھانے پر رضامندی ظاہر کرتی ہے، جس پر مولانا نے بات بھی کی ، خیر قصہ مختصرآل پارٹیز کانفرنس کاغلغلہ ہے ، سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی تقریر پرواہ واہ کی جارہی ہے ، سوال وہی ہے ،کہ جب یہ حکومت اور حکمران اتنے نااہل ہیں کہ ملک کا بیڑا غرق کردیا ہے ، مزید تباہی جارہی ہے ، تو پھر اپوزیشن کی تقسیم کیوں؟ استعفی دینے پر الگ الگ موقف کیوں؟ اگلے سال جنوری میں احتجاجی تحریک کیوں؟ اب کیوں نہیں؟ سینٹ میں عددی برتری کے باوجود اپوزیشن کے ارکان کا سینٹ میں موجود نہ ہونا کیوں؟ حکومت کے بلوں کی منظوری میں اپوزیشن کا خاموش کردار کیوں؟ صدراتی نظام کا سن کر جمہوریت کا الاپ کیوں؟کونسی جمہوریت ،کن کے لئے جمہوریت ؟مغرب کو خوش کرنے کے لئے مساجد و مدراس کے خلاف نئے اقدامات کی منظوری ،دہشت گردی جس کا خاتمہ ہوچکا ہے ، اس کے نام پر ملک سے اسلامی اقدار کو ختم کرنے کی کوشیش،اور اپوزیشن کی خاموشی ؟
آل پارٹیزکانفرنس میںسابق وزیر اعظم نواز شریف نے حکمراں جماعت تحریک انصاف اور ریاستی اداروں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اُن کی جدوجہد وزیر اعظم عمران خان نہیں بلکہ اُنہیں لانے والوں کے خلاف ہے۔اس پر ہر طرف واہ واہ کا شور ہے ، یہ باتیں اب عام ہوچکی ہیں ، عوام کو ان باتوں کا ادارک ہے ، عملی قدم کیا ہے؟ عوام تاجر ، ہر شعبے کے افراد اپوزیشن کے عملی فیصلے دیکھنا چاہتی ہے۔
آل پارٹیزکانفرنس سے اہم خطاب مولانا فضل رحمن کا تھا جس میں ہر اس بات اور مسئلے کی نشاندہی کی کوشش کی گئی ، جس سے اپوزیشن آنکھیں چرارہی ہیں ، لیکن الیکٹرونک میڈیا نے اسے نہیں دکھایا اور نہ ہی اس پر تبصرہ کیا، آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جمیعت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ انتخابات میں دھاندلی سے متعلق کمیٹی بنائی گئی جس کی توثیق آپ لوگوں نے کی لیکن میں نے پہلے دن سے اس اقدام کی مخالفت کی تھی۔انھوں نے اپوزیشن جماعتوں پر ہی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر ڈھیلے ڈھالے فیصلے کیے گئے تو مارچ میں سینیٹ انتخابات کی صورت میں ان جعلی لوگوں (حکومت) کے ہاتھ میں سینیٹ کا ایک حصہ چلا جائے گا۔
پھر آپ کہاں کھڑے ہوں گے اور ملک کہاں کھڑا ہو گا۔’مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ‘آج ہی فیصلہ کریں کہ ہم اسمبلیوں سے مستعفی ہوں گے، اگر ان ہی اسمبلیوں میں بیٹھے ہوئے ہیں جہاں کوئی کارکردگی نہیں ہے تو میں نہیں سمجھتا کہ ہم شفاف الیکشن کے مقصد کے لیے کوئی کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ‘اگر ہم نے سول سپریمیسی کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے ہیں تو پھر آپ عوام کے صفوں کے جانے کے لیے آئیں، تاجربرادری، وکلا، اساتذہ، ڈاکٹروں، مزدوروں، کسانوں اورصںعت کاروں کے پاس جائیں اور ان کے سے کہیں ہم اکٹھیں لڑیں اور ہمیں قوت سے ان کو اپنی صفوں میں لانا ہو گا۔’پارلیمنٹ میں قانون سازی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘ایف اے ٹی ایف سے متعلق جو قانون سازی ہورہی ہے یہاں رکے گی نہیں، آپ کی ایٹمی صلاحیت کے خلاف بھی قرار داد آئے گی اور ایک دن اس پر دبا¶ آئے۔’اب پھنس چکے ہیں، اس سے نکلنے کے لیے مضبوط فیصلے کرنے ہوں گے، ڈی نیوکلیئرائزیشن کا آپ انتظار کریں گے، اپنی عیاشیوں کو زندہ رکھنے کے لیے غلام بننا کوئی زندگی نہیں ہے۔’
مولانا صاحب اب بھی وقت ہے ان اپوزیشن کی جماعتوں پر تکیہ چھوڑ دیں ، استعفے دیکر اسمبلیوں سے باہر آئیں ، عوام آپ کی بات پر عمل کرنا چاہتی ہے ، لیکن بقول آپ کے اگر اس اپوزیشن نے ڈھیلے ڈھالے فیصلے کئے ، تو اس میں آپ کو بھی شامل سمجھا جائے گا،حکمران اسمبلیوں سے اپنے مرضی کے بل پاس کررہی ہے ، آپ کی جماعت سمیت اپوزیشن دانستہ یا غیر دانستہ انہیں روکنے میں ناکام ہے ، عزت اسی میں ہے کہ جو موقف اپنے اختیار کیا ہے ،اس پر آگے چلتے ہوئے عوام میں جائیں، تب ہی عوام کو یقین ہوگا کہ یہ اسمبلیاں ربڑ اسٹمپ ہیں ، بصورت دیگر عوام یہ سمجھے گی ،کہ آپ کی جماعت بھی اپنے ذاتی مفادات کے لئے مصروف عمل ہے ،حکومت کو وقت دینا اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ یہ حکومت پانچ سال چلے گی ، سینٹ میں حکمرانوں کو مارچ میں اکثریت مل جائے گی،اسلام مخالف بل آتے رہینگے، اس وقت پریشر گروپ کی ضرورت ہے ، اسمبلیوں میں موجودگی کے بجائے سڑکوں پر ، جنرل حمید گل رح اسی کہتے تھے ، کہ اس نظام کے ذریعے تبدیلی نہیں آسکتی ، یہ نظام بدلنا ہوگا، اسلامی نظام اسی وقت آسکتا ہے جب ملک کے طول عرض میں اسلامی انقلاب کے لئے پرامن جدوجہد کی جائے ،پھر آپ آخر میں یہ ڈائیلاگ کہہ کر جان نہیں چھوڑا سکتے کہ ہم نے بہت کوشش کی اسلامی نظام کے لئے ،لیکن ہمیں مایوسی ہوئی اور میں معذرت خوا ہوں، سوال پاکستان میں اسلامی اقدار کی بقا کا ہے ، سوال عمران خان ، نواز شریف ، آصف علی زرداری کے درمیان این آراو کا نہیں،سوال پاکستانی عوام کا ہے ، سوال پاکستان میں اسلامی اقدار کے بچاو کے لئے پریشر گروپ کا ہے ، عوام کا سمندر نکلنے کو بے تاب ہے ، مسئلہ قیادت کا ہے ،کیا جے یوآئی اسمبلیوں سے استعفے دے گی؟یا کمزور اپوزیشن کے پیچھے پیچھے چلے گی۔۔