Buy website traffic cheap


ہم کدھر جا رہے ہیں

فیملی جج ندیم اصغر ندیم کا ایک اور اہم فیصلہ ،بیٹوں کے خلاف بوڑھے والد کا دعوی خرچہ نان و نفقہ ڈگری منظور۔ تفصیلات کے مطابق میاں ٹاون شہر رحیم یار خان کے رہائشی بزرگ شہری منیر احمد بھٹی نے غضنفر عباس ایڈووکیٹ ہائی کورٹ کی وساطت سے اپنے برسرروزگار چھ جوان بیٹوں شہزاد منیر، شہباز منیر، ارباز منیر، سرفراز منیر، سراج منیر اور ربنواز کے خلاف ندیم اصغر ندیم جج فیملی جج کی عدالت میں خرچہ نان و نفقہ کا دعویٰ دائر کر رکھا تھا گزشتہ دنوں سماعت کے دوران معزز جج ندیم اصغر ندیم نے کونسل مدعی غضنفر عباس ایڈووکیٹ کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے محمدن لاءکی دفعہ 370 کے تحت مدعی منیر احمد کے حق میں ڈگری کردیا۔
اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے معروف قانون دان غضنفر عباس ایڈوکیٹ نے کہا کہ محمدن لاءکے تحت بوڑھے والدین کے خرچہ نان و نفقہ کی ادائیگی کی ذمہ داری جوان اولاد پر عائد ہوتی ہے۔ معزز عدالت کے اس فیصلے سے انصاف کا بول بالا ہوا ہے۔ اس طرح کے فیصلوں سے عوام الناس کا عدالتوں پر اعتماد مستحکم ہوگا۔ اس موقع پر مدعی منیر احمد نے جھولی پھیلا کر معزز جج صاحب کو ڈھیروں دعائیں دیں۔ واضح رہے کہ معزز جج ندیم اصغر ندیم اس طرح کے انصاف پر مبنی جرات مندانہ فیصلوں میں خاصی شہرت رکھتے ہیں۔¾ ¾
گذشتہ دنوں اس قبل بھی مذکورہ بالا فاضل جج نے سرکاری کام کرنے والے ایک تعمیراتی ٹھیکیدار کو کئی سالوں سے رکی ہوئی رقم کی ادائیگی نہ کرنے ڈسٹرکٹ روڈز آفیسر اور ڈپٹی کمشنر رحیم یار خان کو جواب طلبی پر ٹس سے مس نہ ہونے پر ٹھیکیدار کی ادائیگی رقم نہ ہونے تک محکمہ خزانہ کو ان کی آدھی تنخواہ بند کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں. ایک اور تحریر بھی ہمارے قومی، سماجی اور معاشرتی رویوں اور کردار کی عکاسی کرتی نظر آتی ہے.کہتے ہیں کہ کسی سکول میں ایڈمیشن کے لیے ہیڈ ماسٹر نے فوٹو گرافر کو بلایا اور دس روپے فی سٹونٹ بات پر پکی کی.یہ کام کرنے کے بعد ہیڈ ماسٹر نے ٹیچر سے کہا کہ فوٹو بنوانے کے ہر بچے سے تیس روپے جمع کرو. ٹیچر نے کلاس میں جاکر یہ اعلان کیا کہ کل ہر طالب علم فوٹو کے لیے50روپے لے کر آئے. ایک بچے نے گھر جاکے ماں سے کہا سکول والوں نے فوٹو کے لیے 100روپے مانگے ہیں.شام کو بچے کی ماں نے اس کے باپ کو بتایا کہ منے کے سکول والوں نے فوٹو کے 200روپے مانگے ہیں.اب بتا¶ ملک سے کرپشن کیسے ختم ہوگی۔
محترم قارئین کرام،، زندہ مثالیں ہوں یا میت مثالیں یاد رکھیں مثالیں سمجھنے سمجھانے کے لیے ہوتی ہیں. احساس دلانے اور فکر پیدا کرنے کے لیے ہوتی ہیں.مثالیں ان ڈائریکٹ نشاندہی اور آئینہ ہوتی ہیں. بھٹکے ہوئے یا غلط ٹریک پر جانے والوں کے لیے انہیں راہ راست پر لانے اور رہنمائی کا باعث ہوتی ہے. انسان کو اپنا اپنا محاسبہ کرنے کا موقع بھی فراہم کرتی ہیں. مگر افسوس صد افسوس کہ ہم لمحہ بھر کے لیے بھی نہیں سوچتے کہ ہم کیا کر رہے ہیں. ہم کہاں جا رہے ہیں۔
اپنی اولاد کو کیا سیکھا رہے ہیں انہیں زندگی اور آخرت کے حوالے سے کیا دے رہے ہیں. ہمارے ان انفرادی رویوں اور عمل سے مل کر ہی قومی رویہ اور کردار تشکیل پاتا ہے. حقوق و فرائض کا علم و عمل، اخلاقات اور مثبت اقدار سے روگردانی کرکے ہمارا معاشرہ کدھر جا رہا ہے. اولاد کے نالائق و نافرمان بننے کے محرکات و اسباب کیا ہیں. بیویوں کی طرح بوڑھے والدین نان و نفقہ کے لیے عدالتوں کا رخ کرنے پر کیونکر مجبور ہو رہے ہیں.جس مذہب اور معاشرے میں بوڑھے والدین کی خدمت کرنا عظیم نیکی اور ثواب کا کام سمجھا جاتا ہو وہاں ایک بوڑھے والد کو جوان برسرروزگار اولاد سے نان و نفقہ کے حصول کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑے. یہ بات ہم سب کے لیے باعث افسوس بھی ہے اور باعث فکر بھی ہے. جائیداد کی خاطر والدین کے ساتھ بدتمیزی، زیادتی، انہیں زدو کوب کرنے وغیرہ جیسے واقعات بھی اخبارات کی زینت بنتے رہتے ہیں. یہ سب فرائض سے غفلت اور بے راہروی کا نتیجہ ہے. سرکاری و عوامی معاشرتی کرپشن کا روز بروز بڑھتا ہوا یہ رجحان مستقل کی ایک گھناونی شکل وصورت کو واضح کرتا نظر آ رہا ہے.میرا خیال ہے کہ جھوٹ کینسر کی طرح خطرناک بیماری ہے. دونوں کی نوعیت میں فرق ضرور ہے. میرے نزدیک جھوٹ زیادہ خطرناک و گھناونی قسم کی بیماری ہے۔
کینسر ایک فرد کو نقصان پہنچاتا ہے جبکہ جھوٹ پورے معاشرے جو متاثر کرکے عذاب بنتا جا رہا ہے. وطن عزیز میں سرکاری تعمیراتی کاموں کے لیے مختص اور حقیقی خرچ ہونے والی رقم کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیں تو آپ کو سکول والی مثال سے ملتے جلتے حالات دیکھنے کو ملیں گے. منصوبے کے فنڈز سے اوپر سے کمیشن کٹتے کٹتے نیچے کیا کچھ کام کرنے کے لیے بچتا ہے. اس سے کس قدر اور کتنا معیاری کام ہوسکتا ہے اس کا اندازہ لگانا کوئی زیادہ مشکل نہیں ہے.میرا خیال ہے کہ مذکورہ بالا ٹھیکیدار نے متعلقہ آفیسران کو کمیشن دینے میں کنجوسی کا مظاہرہ کیا ہوگا. یہ بھی ہو سکتا ہو کہ موصوف دھڑلے باز لیڈر ٹائپ آدمی ہو. زیادہ زار دار ہونے کی وجہ سے مستی کی ہو اور آگے سے۔وطن عزیز کے عزیز بیورو کریٹس نے بھی اسے اپنی اوقات دکھانے اور سبق سیکھانے کا فیصلہ کر لیا.جس کی وجہ معاملہ اتنا طول پکڑ گیا ہو. ٹھیکیدار شکر کریں کیس کی سماعت کسی اچھے جج کے پاس ہوئی ہے ورنہ پیشیاں تو وہ کب کی بھگت ہی رہا تھا. وطن عزیز میں دیوانی کیس لوگوں کو دیوانے کر دیتے ہیںفوج داری کیس کو توسلام ہی کریں تو بہتر ہے۔
محترم قارئین کرام،، بازگشت سنی جا رہی ہے کہ یونین کونسلوں کے چیئرمینوں اور وائس چیئرمینوں کے کاموں کی پڑتال کرکے کرپشن کی چھان بین کرنے کا فیصلہ ہو چکا ہے.اگر ایسا ہو جاتا ہے تو یقینا جہموریت کی اس نرسری کے بھی کئی کرتوت سامنے آئیں گے کئی صرف کاغذی منصوبے،کچھ ادھورے منصوبے، ایک کام دو دو بل کے منصوبے. الغرض. بہت ساری یونین کونسلز میں ریکارڈ گھپلے سامنے آئیں گے. حکومت یا تفتیش و تحقیق کرنے والا ادارہ صرف ایک کام مشتہر کردے کہ کس یونین کونسل میں کونسا ترقیاتی و فلاحی کام کب،جس قدر و کتنا، کس محکمہ کے ذریعے، کس کے فنڈ سے اور کتنی بار ہوا ہے.پھر آسانی سے پتہ چل جائے گا کہ ایک کام یا ایک منصوبہ کے ڈبل ٹرپل بل کیسے بنتے ہیں اور کون بناتا ہے۔
کسی سڑک کا جتنا بل وصول کیا گیا ہے وہ اتنی موقع پر بنی بھی ہے یا نہیں.کرپشن کے خاتمے یا اسے کم کرنے کے لیے اس بات کا کھوج لگانا ضروری ہے کہ کرپشن میں کہاں کہاں اور کون کون شریک ہیں.الیکشن کے دنوں میں ذاتی جیب سے کام کروانے والوں میں سے کس کس نے جیتنے کے بعد سرکاری فنڈز سے کیسے وصولی کی. ان سمیت بہت سارے حقائق غیر جانبدارانہ تحقیقات کے نیتجے میں سامنے آ سکتے ہیں. ہیڈ ماسٹر سے ٹیچر، بچے اور بچے کی ماں تک سب کا کردار سامنے آجائے گا۔