Buy website traffic cheap


پاکستان جیسی آزادی کہاں؟

پاکستان جیسی آزادی کہاں؟
مراد علی شاہد دوحہ قطر
پردیس میں رہنے والوں کو جن دو باتوں کی فکر دامن گیر رہتی ہے ان میں سے ایک ہے ماں اور دوسری دھرتی ماں،ایسے تارکین وطن جو اگرچہ اپنی مٹی سے ہزاروں میل فاصلہ پر بستے ہیں لیکن ان کا دل ہمیشہ اپنوں کے لئے ہی دھڑکتا ہے۔ملک پر کسی بھی قسم کا سیاسی،معاشی یا سماجی انتشار ہو یا خاندان پر کوئی مصیبت یا آفت ٹوٹ پڑے تارکین وطن کا دل حلق میں آن اٹکتا ہے۔ چونکہ ٹیکنالوجی نے ترقی کر لی ہے اور موبائل ونیٹ کی وجہ سے پردیس میں بسنے والے ہمہ وقت اپنے اپنے خاندان والوں سے رابطہ میں رہتے ہیں تو اپنوں کے بارے میں ہماری حساسیت اور بھی بڑھ جاتی ہے،میں بھی چونکہ دو دہائیوں سے دوحہ قطر میں مقیم ہوں تو میری بھی ہر وقت کوشش ہوتی ہے کہ خاندان سے رابطہ میں رہ کر بچوں اور اپنوں کے بارے میں جان سکوں۔ابھی کل ہی فون کیا تو بیگم نے کہا کہ گھر کے باہر جمعدار نالیوں کی صفائی کے چکر میں سارا گند نکال کر سڑک پر بکھیر گیا ہے،اس سے تو بہتر تھا کہ یہ سارا کچرا نالی میں ہی رہتا ،کم از کم سڑک اور راہگیر تو محفوظ تھے۔اب پیدل راہگیر یا موٹر سائیکل سوار جو بھی وہاں سے گزرتا ہے اپنے پاﺅں اور ٹائر سے سارا گند اپنے ساتھ بہا لے جا کر ارد گرد بھی پھیلاتا جا رہا ہے۔میں نے ازراہ تفنن کہا کہ صفائی والے کو سو روپیہ دے دینا تھا پھر وہ ذمہ داری سے کچرا اٹھاکر لے جاتا ،بیوی کہنے لگی کہ میں اور پڑوسیوں نے مل کر ایک سو نہیں دو صد روپے دئے تھے تاکہ وہ کوڑا کرکٹ باہر نکال کر بے یارومددگار نہ چھوڑ جائے بلکہ اسے اٹھا کر ساتھ ہی لے جائے،لیکن الٹا لینے کے دینے پڑ گئے۔گویا ناک سے اتار کر گالوں پر لگا لیا ۔
مجھے بیگم کی بات سن کر قطر کا الخور بیچ یاد آگیا کہ جہاں ایک مرتبہ میں اپنے کالج کی کلاس کو وہاں لے کر گیا تھا۔دوپہر کے وقت بار بی کیو کرنے کے بعد جب سارا کچرا ایک جگہ جمع کرلیا تو آس پاس کوئی ڈسٹ بن نظر نہ آئی ،چونکہ یہاں پر قانون کی عملداری کی وجہ سے شہریوں میں احساسِ ذمہ داری بھی انتہا درجے کا ہے تو ہم نے بھی کچرے کے بیگ اٹھائے اورکوئی سو فٹ دورموجود ڈسٹ بن میں پھینکے مبادا کوئی بلدیہ کا ملازم یا سی آئی ڈی والے دیکھ نہ لیں۔یقین جانیں اس دن پاکستان بہت یاد آیا تھا کہ اگر ہم پاکستان میں ہوتے اور ایسی ہی کسی پارٹی سے فارغ ہوتے تو سب احباب اپنے اپنے شاپر اٹھاتے اور پورے زور بازو سے زیادہ سے زیادہ دور پھینکنے کے مقابلہ کے درپے ہوتے۔ہو سکتا ہے باقاعدہ شرط بھی بندھ رہے ہوتے کہ دیکھتے ہیں سب سے دور کس کا شاپنگ جاتا ہے۔بھلے وہ شاپر پھینکتے ہوئے پھٹ کر سارا کچرا مشرق ومغرب میں ہی کیوں نہ بکھر جائے۔
صاف ستھرا قطر دیکھ کر اکثر سوچتا ہوں کہ پاکستان جیسی آزادی کہاں،کہ جہاں آپ چیونگم کھا کر کہیں بھی پھینک دیں کوئی پوچھنے والا نہیں،اور اگر کہیں آپ ایسی جگہ ہوں کہ جہاں چیونگم پھینکی نہیں جا سکتی جیسے کہ کسی کالج یونیورسٹی یا کسی مسجد میں تو کوئی پریشانی نہیں سب سے چھپ کر چیونگم کو منہ سے نکالیں اور کسی بھی دیوار یا نزدیک پڑی کرسی پر چپکا دیں کسی کو کیا پتہ یہ کس کی کارستانی ہے۔اگر آپ کو پان چبانے کی عادت ہے تو آپ کو یہ بھی آزادی ہے کہ بھلے پان دان نزدیک ہی پڑا ہو یا ڈسٹ بن آپ کے آس پاس ہی ہوبے دریغ تھوک کی پچکاری جتنا دور تک ہو سکے مار دیجئے آپ کو کس نے پوچھنا ہے اور اگر اتفاق سے کوئی اخلاقاً کہہ دے تو لڑائی کے لئے تیار ہو جائیں،اور کچھ نہیں تو یہ الفاظ تو ضرور سننے کو ملیں گے کہ ملک تمہارے باپ کا ہے،ٹیکس ادا کرتے ہیں حکومت کا فرض ہے کہ ملک کو صاف ستھرا رکھے۔بات تو سچ ہے کہ جب ملک آزاد ہے تو ہم کیوں آزاد نہیں،ہمارا بھی تو حق ہے نا کہ ہم بھی اپنے حصہ کا گند ڈال کر اپنے گندے ہونے کا ثبوت فراہم کریں۔
میری طرح آپ نے بھی مشاہدہ کیا ہوگا کہ گلی محلہ میں پڑا ہوا کچرے کا ڈرم اندر سے خالی ہوگا جبکہ اس کے ارد گرد کوڑا کرکٹ ایسے پڑا ہوگا جیسے مکھیوں کا چھتہ ہو۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اکثر کچرا پھینکنے والے افراد ڈرم کے نزدیک جانے کی زحمت گوارا نہیں کرتے،بلکہ دور ہی سے کچرے کے ڈرم کا نشانہ لے کر شاپر پھینک دیتے ہیں،اکثر کا نشانہ چوک جاتا ہے جس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہوتا ہے۔آلو کی چپس کے خالی پیکٹ میںمنہ سے ہوا بھر کا کسی بزرگ کے پاس جا کر پٹاخہ مارنا اور دودھ اور جوس کے خالی ڈبے کو پاﺅں مار کر پٹاخہ مارنا ہمارا قومی شعار بنتا جا رہا ہے،اس میں ہمارے بچوں کا اتنا قصور نہیں جتنا کہ ہمارے بڑوں کا،وہ اس طرح کہ جب بھی کوئی شیر خوار بھوک کی وجہ سے روتا ہے تو ہم اسے کسی شاپر،چپس کے پیکٹ یا پھر جوس کے خالی ڈبے کا پٹاخہ بجا کر ہی خوش کرنے کی کوشش کرتے ہیں،ظاہر ہے باپ پر پوت پتا پر گھوڑا،بہتا نئیں تے تھوڑا تھوڑا۔اب تو خیر پاکستانی تھوڑا با شعور ہو گئے ہیں وگرنہ مجھے یاد ہے جب میں کالج کا طالب علم تھا تو اکثر ایسے افراد جن کو پانی کے زیادہ استعمال سے مثانہ تنگ کرتا تھا وہ کسی بھی دیوار یا بس کے ٹائر کے پیچھے اس پریشر کو کم کر سکتا تھا،کیا ایسی آزادی کسی اور ملک میں مل سکتی ہے،ہرگز نہیں بلکہ بہت سے ممالک میں تو اخلاقی پستی کے علاوہ بھاری جرمانہ بھی ادا کرنا پڑتا ہے۔گلی کے آوارہ بچے اور کچھ نہیں تو آوارہ کتوں کو پتھر مارکر دلی سکون حاصل کر لیتے ہیں،چائے کی دوکان پہ ایک کپ چائے پینے کے لئے پورا ایک گھنٹہ ضائع کرنے کو شیخی سمجھتے ہیں،اسی دوکان پہ ایک شخص تازہ اخبار پڑھ رہا ہو تو دس بارہ ان پڑھ اس کے ارد گردکھڑے اخبار کی خبریں سن کر ایسے تبصرہ فرما تے ہیں جیسے عالم ان کے مشوروں کا محتاج ہو،حالانکہ ایسے ویہلے لوگوں کو اپنے ہی گھر میں کوئی چولہے کے پاس بھی نہیں بیٹھنے دیتا لیکن حکومتی پالیسیوں پر ایسے کمنٹ دیتے ہیں جیسے وزیر خزانہ ان کے مشورہ سے ہی سالانہ بجٹ تیار کرتا ہو۔
اخلاقیات سے ایسی گری ہوئی عادات واطوار دیکھ کر مجھے لگتا ہے کہ ہم ابھی تک آزاد نہیں ہوئے،یا شائد سیاسی لحاظ سے تو آزاد ہو گئے ہیں مگر ذہنی طور پر ابھی بھی عصرِ حجر میں ہی رہ رہے ہیں،اگر اسی کا نام آزادی ہے تو بلی بھی ہم لنڈورے ہی بھلے۔