Buy website traffic cheap

Why does the desire to eat fried foods increase during rainy season?

بارش کے موسم میں تلی ہوئی غذائیں کھانے کی خواہش کیوں بڑھ جاتی ہے؟

بارش کا موسم بیشتر افراد کو پسند ہوتا ہے، خاص طور پر شدید گرمی کے بعد ایسا ہوتا ہے تو سکون کے احساس کے ساتھ ساتھ ماضی کی حسین یادیں بھی ذہن میں ابھرتی ہیں۔بارش سے اردگرد کے رنگ زیادہ بہتر ہو جاتے ہیں اور چیزیں نئی اور مختلف نظر ا?نے لگتی ہیں، جبکہ مٹی سے اٹھنے والی مہک مزاج کو خوشگوار بنا دیتی ہے۔مگر اس کے ساتھ ساتھ کچھ کھانے کی خواہش بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے، خاص طور پر گرم تلی ہوئی اشیا دیکھ کر منہ میں پانی بھر جاتا ہے۔ممکنہ طور پر یہ سوال بہت کم افراد کے ذہن میں ابھرتا ہوگا مگر اس کی وجہ کافی دلچسپ اور ہماری فطرت سے جڑی ہے۔بارش کے دوران درجہ حرارت میں کمی آتی ہے تو فطری طور پر ایسی غذاو¿ں کے استمال کی خواہش بڑھتی ہے جو جسم کو حرارت فراہم کر سکیں۔اس کے ساتھ ساتھ بارش کے دوران سورج کی روشنی غائب ہونے سے جسم میں سیروٹونین کی سطح کم ہوتی ہے۔یہ ایک ایسا ہارمون ہے جو مزاج خوشگوار رکھنے میں مدد فراہم کرتا ہے اور ہمیں انزائٹی اور ڈپریشن سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔یہ دماغی ہارمون کھانے کی خواہش کم کرنے میں بھی مدد فراہم کرتا ہے مگر موسم بدلنے کے بعد اس کی سطح میں اچانک کمی سے بھوک کا احساس ہونے لگتا ہے اور کچھ کھانے کی خواہش بڑھ جاتی ہے۔زیادہ چکنائی والی غذاو¿ں میں ایک amino acid ٹرپٹو فان موجود ہوتا ہے جو ہمارا دماغ سیروٹونین بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔تو جب سیروٹونین کی سطح میں کمی ا?تی ہے تو ہمارا دماغ تیل میں تلی جانے والی غذاو¿ں کی طلب کرنے لگتا ہے۔آسان الفاظ میں اگر بارش ہونے پر پکوڑے اور سموسے کھانے کی طلب ہونے لگتی ہے تو اس کا الزام دماغ پر عائد کیا جا سکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ بارش کے موسم میں تلی ہوئی غذاو¿ں جیسے پکوڑے، سموسے یا دیگر کی فروخت بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے، بلکہ ان کی دکانوں کے سامنے قطاریں بھی نظر آنے لگتی ہیں۔مگر باہر سے ان اشیا کو کبھی کبھار کھانا تو ٹھیک ہے مگر اسے معمول بنانا ضرور صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔