Buy website traffic cheap


why-fi اور چارجر

why-fi اور چارجر
مراد علی شاہدؔ دوحہ قطر
جدید ٹیکنالوجی کے دور میں دنیا چارجر اور wi fi پر مکمل طور پر ٹرانسفر ہو گئی ہے۔وائی فائی بنا دنیا ادھوری ادھوری اور سونی سونی سی لگتی ہے۔یہ ایک ایسا نشہ ہے کہ جس میں نشہ نہیں ہے لیکن پھر بھی یہ ایک نشہ ہے۔فون سے فین،اور UPS سے انسان ہر چیز وائی فائی کی مرہونِ منت ہو گئی ہے۔انسان کیسے چارج ہو سکتا ہے، پہلے مجھے بھی یقین نہیں آتا تھا مگر جن دنوں میں اپنا نیا گھر بنوا رہا تھا ،کیا ماجرا ہوا کہ ایک پٹھان بھائی مزدور سے میں نے اینٹیں چھت پر پہنچانے کا ٹھیکہ کرنا چاہا ،پٹھان تھوڑی دیر رکا ،پھر بولا ماڑا پہلے تم ہم کو چارج ہونے دو پھر بات کرتا ہے۔اسی اثنا میں ڈبیہ سے ایک چٹکی نسوار کی نکالی ،زبان تلے دبائی اور ایک آنکھ مجھے ماری اور بولا ’’ماڑا اب پٹھان چارج ہو گیا ہے اب بتاؤ کیا کام ہے‘‘؟گویا نسوار اس کے لئے بیٹری کا کام دے رہی تھی۔
آپ سفر پہ جا رہے ہوں،والٹ رکھیں نہ رکھیں چارجر ضرور رکھنا پڑتا ہے بلکہ اب تو ساتھ میں چارجر کا باپ یعنی پاور بنک بھی ساتھ میں رکھنا پڑتا ہے۔اور تو اور رختِ سفر میں مائیں اتنا خیال اپنے بچوں کا نہیں رکھتیں جتنا اس بات کا کہ پرس میں چارجر رکھ لیا کہ نہیں۔کبھی کبھار تو آجکل کی مائیں چارجر بیگ میں رکھ کر گھر کو تالہ لگا کر سوئے منزل رواں دواں ہو جاتی ہیں وہ تو راستے میں پتہ چلتا ہے کہ چارجر تو یاد سے رکھ لیا تھا مگر اس کی جگہ منّا گھر میں ہی لاک ہو گیا ہے۔اور خدا نہ کرے چارجر کہیں دورانِ سفر گم ہو گیا یا گھر بھول گیا تو خدا پناہ،کیا منّا اور کیا منّے کا ابّا سب کو ہی ری چارچ پر لگا دیا جاتا ہے۔رشتہ داروں کے ہاں جا کر حال چال کے بعد جس کا چیز کے بارے میں سب سے زیادہ پوچھا جاتا ہے وہ چارجر اور وائی فائی کا پاس ورڈ ہوتا ہے۔واقعی پرانے سیانے سچ کہتے تھے کہ ’’سپ زہر بنا نئیں رہ سکدا‘‘(سانپ زہر بنا نہیں رہ سکتا)آج کے سیانے کہتے ہیں کہ نئی نسل چارجر بنا نہیں رہ سکتی۔آجکل مارکیٹ میں دو قسم کے چارجر دستیاب ہیں،کمرشل اور گھریلو۔کمرشل میں سادہ،ڈڈّو اور پاور بنک بھی چارجر میں ہی شمار کیا جاتا ہے۔گھریلو چارجر ایک ہی قسم کا پایا جاتا ہے۔جو اپنی خوبیوں کے با وصف بے مثال و یکتا ہے۔ایسے چارجر کو بیوی کا نام دیا گیا ہے۔یہ ایک ایسا چارجر ہے جو خاوند کو اپنے ہی سسرالیوں کے ایسا خلاف کرتی ہے کہ جس کی بیٹری کبھی low نہیں ہوتی۔یعنی بیوی کا کیا ہوا چارج خاوند ،چلے سال ہا سال۔اور اگر کبھی بیٹری کم ہونے لگے تو بچوں کو باپ کے خلاف ایسا چارج کرتی ہے جیسے 28 پلیٹ بیٹری UPS کو چارج کرتی ہے،یعنی بچے بھی چارج اور خاوند کی بیٹری بھی فُل۔
میرے ایک دوست کا بڑا سادہ سا اور کامیاب funda ہے کہ گھریلو چارجر(بیوی) سے بچنے کا آسان نسخہ ہے کہ گھریلو چارجر کے پاور بنک(ساس) کو اپنے قبضے میں کر لو۔یا پھر ساری خدائی ایک طرف اور جورو کا بھائی ایک طرف۔ایسا کرنے سے ایک فائدہ ہو گا کہ نہ بولے گی ساس اور نہ ’’تپے‘‘گی بیوی۔کیونکہ جب تک ساس ہے تب تک آس ہے۔ساس کی سانس کی ڈوری ٹوٹی نہیں آپ کی آس کا پورا منگل، سوتر سمیت ٹوٹ گیا۔ساس کی وفات پر اتنا پہاڑ ان کے گھر والوں پر نہیں ٹوٹتا جتنا داماد کے گھر پر ٹوٹتا ہے،اور اگر داماد سب سے بڑے والا ہو تو سمجھو کہ مہمانوں کی صورت میں پورا ہمالیہ ہی ٹوٹ پڑا۔جن رشتہ داروں نے مرحومہ کی زندگی میں کبھی تعریف نہیں کی وہ سب سے بڑھ چڑھ کر فرما رہے ہوتے ہیں کہ بہشتن بہت نیک خاتون تھی۔اور ہلکا سا زیرِ لب مسکرا بھی رہے ہوتے ہیں۔
وائی فائی کی طاقت کا اگر اندازہ لگانا ہو تو ایک دن اپنے گھر کے وائی فائی کا پاس ورڈ کھلا چھوڑ کر دیکھ لیں۔رات بارہ بجے تک آپ کو اپنے گھر کی ’’تھڑی‘‘(دروازے کے باہر کی سیڑھی)نوجوانوں سے ایسے بھری ملے گی جیسے شہد کی مکھیوں کا چھتہ ہوتا ہے۔اور تو اور یہ من چلے محلہ کے نوجوانوں کو فری وائی فائی کی دعوت کارِ خیر خیال کرتے ہوئے بھی دے رہے ہونگے۔دیکھتے ہی دیکھتے سارے محلہ کے بچے ایسے جمع ہونا شروع ہو جائیں گے جیسے کسی دربار کے لنگر خانہ میں ملنگ۔
لفظ وائی فائی کو اپنی بیوی کے سامنے کبھی بھی روانی میں ادا کرنے کی غلطی مت کیجئے گا کیونکہ اسے تیزی سے ادا کرنے سے اس کا صوتی آہنگ کچھ اس طرح ادا ہو جائے گا۔(wife-i ) یعنی زوجہ ثانی۔بس پھر جو شامتِ اعمال آ سکتی ہے یہ وہی بتا سکتے ہیں جن پر یہ طبع آزمائی ہو چکی ہو ،کہانی تو یہ گھر گھر کی ہے مگر مانے گا کوئی بھی نہیں۔چارجر کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ جو نا پسندیدہ کال ہو ں اس کو بعد ازاں ایکسیوز کر لیا جاتا ہے کہ فون چارجر پہ تھا۔اب آپ بھی چیک کر لیجئے کہ کس کس کو یہ ایکسیوز کرنی ہے کہ اوہ ،فون چارجر پہ تھا۔