Buy website traffic cheap


پردہ کی ضرورت و اہمیت

تحریر: ملیحہ آفتاب(بھمبر آزاد کشمیر)
پردے کی بات کی جائے تو سوچ آکر عورت پہ رک جاتی ہے لباس عورت کا نگاہیں عورت کی انداز عورت کے۔ بات ٹھیک بھی ہے عورت کا مطلب ہی ڈھکی چھپی چیز ہے۔ اللہ نے پردے کا حکم دیا ہے تو بہتر ہے وہ پردے کا اہتمام کرے لیکن کیا اللہ نے پردے کا حکم صرف عورت کو دیا ہے؟ کیا اس سلسلے میں مرد کی کوئی ذمہ داری نہیں مرد پر کوئی حکم لاگو نہیں ہوتا؟ کیا اللہ سے بڑا بھی کوئی منصف ہے؟ یقینا کوئی بھی نہیں ہے۔ تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ منصف اس معاملے میں انصاف نہ کرتا۔ جی ہاں سارے حکم عورت کے لیے نہیں مرد کے لیے بھی ہیں۔جہاں عورت کے پردے کی بات آتی ہے وہاں مرد کے لیے نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم بھی ہے۔ اکثر مرد حضرات یہ عذر پیش کرتے نظر آتے ہیں۔ جی اب اگر عورت سج سنور کے باہر نکلے گی تو ہر کوئی دیکھے گا تو ضرور یا پھر کہا جاتا ہے جی میٹھے کو ڈھانپ کر نہ رکھا جائے تو مکھیاں تو آئیں گی نہ۔ تو ایسے عذر پیش کرنے والوں کے لیے یہی کافی ہے کہ مکھیاں اگر میٹھے پر آتی ہیں تو گندگی پر بھی آتی ہیں۔ تو کیا آپ لوگ اس مکھی سے بھی حقیر ہیں اللہ نے آپ کو آشرف المخلوقات کا درجہ دیا ہے۔ آپ اپنا موازنہ مکھی سے کرتے نظر آتے ہیں۔
آپ باہر کی عورت کو چادر نہیں دے سکتے۔ لیکن نگاہوں پہ تو آپ کو اختیار ہے نہ۔ اگر عورت بے پردہ ہے تو اس کی ذمہ دار وہ خود ہے۔ اس کا بھگتان اسے خود بھرنا ہے۔ اس کے ذمہ دار آپ نہیں ہیں۔ لیکن اپنی نگاہوں کے ذمہ دار آپ ہیں اس کا جواب آپ نے دینا ہے وہاں آپ یہ نہیں کہہ سکیں گے کہ عورت ایسی تھی یا ویسی تھی۔ وہاں آپ سے آپ کے متعلق پوچھا جائے گا اللہ نے آپ کو اپنی نگاہوں پہ اختیار دیا ہے۔تو اس کی حفاظت آپ کے ذمہ ہے۔ اسلام میں کہیں بھی جبر نہیں ہے۔ یقین جانیں سب سے سادہ اور آسان دین ہی اسلام ہے۔جس میں کہیں بھی کوئی بھی بے جا روک ٹوک نہیں۔ اگر پردے کا حکم ہے تو اس میں بھی انسان کا فائدہ ہے۔دنیا میں بہت سی برائیاں صرف بے پردگی کی وجہ سے ہیں۔ پردے کا حکم ضرور ہے لیکن کہیں بھی زیب و زینت اختیار کرنے سے منع نہیں کیا گیا۔ہاں کچھ حدود ضرور مقرر کی گئی ہیں۔لیکن وہ بھی انسان کے اپنے فائدے کے لیے ہیں۔ سورة اعراف آیت 32 میں اللہ تعالٰی فرماتے ہیں۔


”اے محمد، ان سے کہو کس نے اللہ کی اُس زینت کو حرام کر دیا جسے اللہ نے اپنے بندوں کے لیے نکالا تھا اور کس نے خدا کی بخشی ہوئی پاک چیزیں ممنوع کر دیں؟ کہو، یہ ساری چیزیں دنیا کی زندگی میں بھی ایمان لانے والوں کے لیے ہیں، اور قیامت کے روز تو خالصتاً انہی کے لیے ہوں گی اِس طرح ہم اپنی باتیں صاف صاف بیان کرتے ہیں اُن لوگوں کے لیے جو علم رکھنے والے ہیں“ یعنی لباس توا للہ تعالیٰ نے اتارا ہے،وہ لباس جو شرم کی جگہوں کو چھپاتا ہے اور باعث زینت ہے، اسے کس نے حرام کیا ہے؟ کوئی بھی کپڑا جس میں انسان اچھا لگے اس کپڑے کا لباس انسان کو حلال ہے، چاہے وہ کپڑا روئی سے بنا ہو یا ریشم سے۔ اسے حرام قرار دینے والوں سے اللہ تعالیٰ سوالیہ انداز میں پوچھ رہا ہے کہ بتا¶ تو سہی کون ہے وہ جس نے انہیں حرام کیا۔ جب میں نے(اللہ تعالیٰ نے) حلال کر دیا تو دوسرا حرام کرنے والا کون ہے؟ اللہ تعالیٰ تو خود حضرت محمد ﷺ کی زبانی لوگوں سے پوچھ رہے ہیں کہ بتا¶ تو ذرا کون ہے جس نے فلاں لباس حرام کیا ہے؟ مگر اس آیت کے برخلاف الٹا بہت سے لوگ حضرت محمد ﷺ کی طرف منسوب کر کے مختلف لباسوں کومختلف قوموں سے منسوب کر کے حرام قرار دے رہے ہیں۔اسی طرح ریشم کے لباس، غیر عرب قوموں کے لباس کے حرام ہونے کو بھی نبی کریم ﷺ سے ہی منسوب کیا جاتا ہے۔ یہ آیت اسی بات کی نفی کر رہی ہے۔ اسلامی لباس کی صرف دو خصوصیات بتا دی ہیں یعنی شرم کے حصوں کو چھپانا اور باعث زینت۔ اس کے بر خلاف اگر کوئی شلوار قمیض یا پینٹ شرٹ کو حرام قرار دیتا ہے تو اس کا حرام قرار دینا اپنی خواہش کی وجہ سے ہے۔ عورتوں کا سنگھار کرنا کہیں حرام نہیں ہے، خوبصورت نظر آنے کے لیے خوبصورت لباس اور زیورات پہننا بھی کہیں حرام نہیں ہے، ہاں ان کی سب کچھ حدود ہیں۔جو اللہ تعالٰی نے مقرر کردی ہیں ان حدود سے انحراف کرنے پر گناہ ہوتا ہے۔ اگر آپ کا لباس،آپ کی زیبائش،آپ کی زینت پردے کے تقاضوں پر پوری اترتی ہے تو اس پر کچھ گناہ نہیں۔ لیکن مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے پردے کا برابر حکم ہے کوئی بھی اس سے بالاتر نہیں۔
اس سے زیادہ واضع الفاظ اور کیا ہوسکتے ہیں کہ اے مومن عورتوں اپنی نگاہیں بچا کر رکھو اور شرمگاہوں کی حفاظت کرو۔ بہت سی خواتین کہتی پائی جاتی ہیں جی شرم و حیا تو آنکھوں میں ہوتی ہے لباس سے یا نقاب سے کیا فرق پڑھتا ہے ان سے میرا بس ایک سوال ہے۔
کیا آپ حضرت فاطمہ الزہرہ سے بھی زیادہ شرم و حیا والی ہیں؟