Buy website traffic cheap


خواتین کو اپنا عالمی دن کیسے منانا چا ہیے۔؟؟

مہوش سردار
مارچ کا آغاز ہوتے ساتھ ہی خواتین مارچ کے حوالے سے ایک شور سا پیدا ہو جاتا ہے۔پاکستان اور دنیا بھر میں میں عورتوں کے حقوق کے لیے آگاہی مہم چلانا اور ان کے بارے میں بات کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن مختلف ادوار میں اسکا طریقہ کار مختلف رہا ہے۔ گذشتہ چند برسوں میں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی آمد کے بعد سے عورتوں کے حقوق کے لیے اٹھنے والی آوازیں اب زیادہ موثر طور پر لوگوں تک پہنچ رہی ہیں جس کی مدد سے عام خواتین میں بھی اپنے حقوق کا شعور اجاگرہواہے اور وہ اس کے لیے باہر نکل کر اپنے حق کے لیے آواز بلند کرنے کے لیے سرگرم ہو گئی ہیں۔ہم نے گزشتہ سالوں میں کہیں جگہوں پر خواتین کو اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے دیکھا جس میں خواتین اپنی اور اپنی ذات سے لیکر اپنے حقوق تک احتجاج کرتی نظر آئیں۔۔جہاں ہم نے کچھ جائز مطالبات کو دیکھا وہاں ہی ہم نے کچھ لبرل خواتین کو حد سے زیادہ باختیار ہونے کی خواہش کا اظہار کرتے بھی دیکھا جس پر انھیں کافی زیادہ تنقید کا سامنا کرنا پڑا پاکستان جیسے معاشرے میں خواتین کو اپنے مطالبات منوانے کے لیے ان احتجاج کی صورت کیوں پیش آتی ہے؟؟ خواتین کو اپنے عالمی دن کے موقع پر کن چیزوں پر بات کرنی چائیے؟کونسے ایسے حقوق ہیں جو سب ے پہلے اور بنیادی حق کے طور پر تسلیم کروائے جانے چائیے اور کن حقوق پر حقوق نسواں کی بات ہونی چا ہیے ،آئیے اس پر بات کرتے ہیں۔
“نمبر ۱: قبول کرنا یعنی کے Acceptenceہمارے معاشرے میں بیٹی کا پیدا ہونا شروع ہی سے تسلیم نہیں کیا جاتا۔یہ ایک ایسا عمومی رویہ ہے جسے ہم شعور دے کر بھی تبدیل نہیں کر سکے اسکی بنیادی وجہ وہ سوچ ہے جس نے بیٹے کی پیدائش کو جائداد کا وارث بنا کر بیٹی کو حق محرومیت بخشا۔۔ بیٹی کی شادی بھاری ذمہ داری بنا کر جہیز کا تصور دیا اور بیٹی اللہ پاک کی رحمت کے بجائے زحمت تصور ہونے لگ گئی۔جب بھی کسی کے گھر بیٹی پیدا ہوتی ہے تو سب سے پہلے ایک عورت ہی دوسری عورت کو تنقید کا نشانہ بناتی ہے۔ایسا اس وجہ سے ہے کے ایک عورت ہونے کے ناطے ہم نے کھبی بھی عورت کی عظمت کو تسلیم نہیں کیا۔۔ سب سے پہلے خود کو عورت ہونا اور یہ کہنا کے کاش میں مرد ہوتی یہ کہنا چھوڑ دیجئے۔ ”
نمبر 2۔ تعلیم Educationکسی بھی بیٹی کا یہ بنیادی حق ہے کے اسے اعلی تعلیم اسکی اپنی پسند اور اسی معیار کے حساب سے دی جائے جیسے بیٹے کو دلوائی جاتی ہے۔ ائین پاکستان کے آرٹیکل 25 اے کے مطابق پانچ سے سولہ سال تک کی عمر کے بچوں کو مزکورہ طریقہ کار پر جیسا کے قانون پر مقرر کیا جائے مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرنے کا وعدہ کرتی ہے۔۔ اس لیے دوسرا حق اپنے تعلیم کا لیجئے ۔اور ایک پلے کارڈ پہ لکھا ہونا چائیے۔۔ “اعلی تعلیم حاصل کرنا میرا بنیادی حق ہے”
نمبر3اچھی ملازمت کا حق۔ job Right of good ایک عورت کو اول تو ملازمت کے حصول کے لیے بھی سو طرح کے پاپڑ بلینے پڑتے ہیں اور فرض کیجیے کہ ملازمت مل بھی جائے تو بھی سماج میں موجود مردوں کی حاکمیت کے باعث اسے ہر وقت جنسی تفریق کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خواتین کے گھر سے نکل کر نوکری کرنے کی مخالفت کی جاتی ہے، جبکہ اگر یہی خواتین روز مرہ کے گھریلو کام کاج میں مصروف رہیں تو خوشی کا اظہار کیا جاتا ہے۔ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ جو عورت گھر کے کام خوش اسلوبی سے کر رہی ہو اور بیک وقت خانہ داری سے لےکر بچوں کی تعلیم تک میں اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھا رہی ہو، وہ بھلا ملازمت کر کے مثبت تبدیلی کیوں نہیں لا سکتی؟اس لیے ایک پلے کارڈ پر لکھا ہونا چائیے۔۔”اچھی ملازمت میں اپنی کارکردگی دکھانا بھی میرا حق ہے”
نمبر4۔غیرنصابی سرگرمیوں کا حق Extra curricular activities کھیل کود اور اپنے پسند کے حساب سے واک ایکسرسائز ،اپنی پسندیدہ گیمز اور باہر کی وہ سرگرمیاں جو کسی بھی طرح سے اپکو زہنی طور پر خوشگوار اور مثبت احساس دے سکیں لازمی اسکا حق حاصل کریں۔۔ نہ مذہب کی اس میں کوئی ممانعت ہے اور نہ ہی معاشرے میں کسی بھی بچی اور خاتون کے کھیل کود یا کسی غیر نصابی سرگرمی سے بے حیائی جنم لے سکتی ہے۔اس لیے معاشرے کی تنقید کو ایک سائیڈ پر رکھ کر اپنی صحتمندانہ سرگرمیوں کو ضرور جاری رکھیں۔۔ایک پلے کارڈ پر لکھا ہونا چائیے”صحت مند دماغ گھر کی اچھی فضا کے لیے ضروری ہے”ہمیں بھی برابری کی سطح پر ان سرگرمیوں کی ضرورت ہے۔ نمبر5۔۔۔ پسند کے نکاح کا حق Right of marriage حضرت خدیجہ وہ پہلی خاتون تھی جنہوں نے نبی پاک صلہ اللہ علیہ والہ وسلم کو اپنی پسند سے نکاح کا پیغام بجھوایا اور نبی پاک نے اسے قبول کر کے خواتین کے لیے اس عمل کو جائز قرار دیا.. کوئی بھی عورت اپنی مرضی سے اپنا جیون ساتھ چننے کا حق رکھتی ہے۔اس لیے اس پر احتجاج تو نہیں بنتا لیکن اپنے والدین کو اعتماد میں لیکر اپنی پسند کا فیصلہ لینا کسی بھی خاتون کا شرعی اور قانونی حق ہے۔۔ ایک پلے کارڈ پر لکھا ہونا چائیے۔۔ “مجھے اپنی پسند سے نکاح کرنے کا حق دیا جائے۔
” نمبر6۔خلع کا حق۔a Right of Khulاسلام جیسے عورت کو اپنی پسند سے نکاح کا حق دیتا ہے اسی طرح وہ عورت کا خلع کا حق بھی دیتا ہے۔ عورت اپنی شادی شدہ زندگی میں ناچاقی اور ازیت والی زندگی گزارنے اور کڑوے گھونٹ پینے کے بجائے خلع کا راستہ اختیار کر کے اپنی زندگی کو نئے سرے سے ترتیب دے سکتی ہے۔اور مذہب اسلام اسکا پورا حق اسے دیتا ہے۔۔سسرال کے ظلم اور مردوں کے اجارہ داری رکھنے والے اس معاشرے میں گھٹ گھٹ کر سانس لینے سے بہتر ہے کے ہرعورت ناپسندیدہ رشتے کی ازیت سے خود کو آزاد کرے۔یہ عورت کا اپنے اپکو عزت دینے کا ایک طریقہ ہے۔۔ایک پلے کارڈ پر لکھا ہونا چائیے۔”روز روز مرنے سے بہتر ہے میں خلع کا حق استعمال کروں” نمبر7۔جائیداد کا حق Right of propertyبیٹی،بیوہ،بیوی،بہن،ماں،کسی بھی شرعی رشتے کی جائیداد میں اپنے حصے کی وارث ہوتی ہے لیکن نا تو خواتین اس پر بولتی ہیں اور نا ہی اپنے گھر والوں سے اس کا مطالبہ کرتی ہیں۔اور اگر غلطی سے کوئی کر بھی دے تو اسے انتہائی معیوب سمجھا جاتا ہے نہ صرف اس سے سب تعلق ہی ختم کر دئیے جاتے ہیں بلکہ اسے سماجی طور پر بھی برا سمجھا جاتا ہے۔جبکہ قران واضع طور پر عورت کے جائیداد میں حصے کو تسلیم کرتا ہے۔ اس لیے ایک پلے کارڈ پر لکھا ہونا چائیے۔۔”مجھے جائیداد میں اپنا شرعی حصہ چائیے یہ حق مجھے میرا مذہب دیتا ہے۔۔
نمبر 8۔ظلم پر اواز اٹھانا۔ raise your voice against voilnce اکیسویں صدی میں بھی پاکستان میں کاروکاری، وٹہ سٹہ اور ونی جیسی جاہلانہ رسومات عروج پر ہیں۔ راہ چلتے عورتوں پر آوازیں کسنا، انہیں برے ناموں سے پکارنا، مذاق اڑانا، سوشل میڈیا پر ان کی تضحیک کرنا، انہیں بلیک میل کرنا اور غیر مہذب الفاظ کا استعمال کرنا روز مرہ کا معمول بن چکا ہے۔ یعنی آج بھی دور جہالت کے پیروکار موجود ہیں، کسی کی بہن کے ساتھ اگر جنسی زیادتی ہو جائے تو بھائی اسے غیرت کے نام پر قتل کر دیتا ہے، بجائے یہ کہ اپنی بہن کے ساتھ ہونے والی زیادتی پر مجرم کو قانون کے دائرے میں لائے۔ گھریلو تشدد میں اکثر خواتین قبر میں اتر جاتی ہیں لیکن انکے بارے میں بات نہیں کی جاتی بلکے ہر قتل کو آرام سے غیرت کے کھاتے میں ڈال کر خود کو بری ازمہ قرار دے دیا جاتا ہے۔ایسا اب ہر گز نہیں ہونا چائیے۔ خواتین کو نہ خاموشی سے مار کھانی چائیے نہ ظلم سہنا چائیے۔اس کے لیے آواز اٹھانا سب سے بڑی زمہداری خود خواتین کی اپنی ہے۔اس لیے ان سب کے لیے اب پلے کارڈ پر لکھا ہونا چائیے۔”کوئی بھی خاتون گھریلو اور معاشرے کا کوئی ذہنی اور جسمانی تشدد برداشت نہیں کرے گی
نمبر۹ ” آزادی اظہار کا حق۔ Right of Freedom expressionکسی بھی جگہ پر اکثر خاتون کا بولنا بہت معیوب سمجھا جاتا ہے۔۔ جبکہ خواتین کی اپنی رائے بہت اہمیت رکھتی ہے۔اسلام میں عورتوں کی آزادی کا حق اتنا ہی ہے جتنا کہ مرد کو حاصل ہے خواہ وہ دینی معاملہ ہو یا دنیاوی۔ اس کو پورا حق ہے کہ وہ دینی حدود میں رہ کر ایک مرد کی طرح اپنی رائے کا آزادانہ استعمال کرے۔۔اب پلے کارڈ یہ ہونا چائیے۔۔”مجھے بھی رائے دینے کا حق ہے میری بھی اواز سنی جانی چائیے” یہ تو چند اہم نکات تھے جن پر خواتین کو اپنے لیے اواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔ خواتین کو اپنے عالمی دن پر اپنے ان مسائل پر اواز اٹھانی چائیے جو ایک عورت کو اس معاشرے میں قابل فخر مقام دلوا سکیں۔ میرا جسم میری مرضی کا حق بھی استعمال کریں لیکن ایسا حق استعمال نہ کریں جو مذہبی اور اخلاقی لحاظ سے اپکو دیوالیہ کر دے۔۔ اگر سب خواتین مل کر ایک مضبوط آواز بنیں تو وہ اس قدامت پسند معاشرے کو بدل کر رکھ دیں گی جو کے اس وقت کی ایک اہم ضرورت ہے۔