Buy website traffic cheap

Column, Boot, Faisal Vawda, Boot, Talk Show, Army

فلسطین پر مظالم۔۔دنیا اور مسلمان ممالک

مضامینِ نو
ڈاکٹر محمد جاسر آفتاب
مذہبی نظریات کی بنیاد پر منقسم مسلمانوں کے مختلف گروہ تو پھر بھی کسی نہ کسی نقطے پر اکٹھے ہو جاتے ہیں مگر تاج و تخت کی بنیاد پر تقسیم یہ مختلف ٹکرے صرف گروہی مفادات کے گرد ہی گھومتے ہیں۔ مذہبی عقائد کا تقدس، مذہبی مقامات کا تحفظ، انسانیت اور اخلاقی اقدار کے برعکس ترجیح جب حکمرانی اور عیش و عشرت ہو تو پھر بزدلی کا مقدر بن جانا انوکھا نہیں ہوتا۔ دیوبندی، بریلوی، وہابی ، شیعہ اور اس جیسے دیگر فرقوں کی وجہ سے اسلام کو پہنچنے والا نقصان تو زیر بحث آتا ہے مگر پاکستان، ایران، سعودی عرب، امارات، بحرین، قطر، سوڈان جیسے فرقوں کے باعث مسلمانوں کو ہونے والے نقصان پر توجہ نہیں دی جاتی۔ یقیناََ علمی نظریات کی بنیاد پر گروہ موجود رہیں گے اور سرحدی لکیریں بھی مختلف ریاستی گروپس کا وجود برقرار رکھیں گی مگر اسلام کیلئے اور مسلمان کیلئے ان گروہوں کا بوقت ضرورت ایک ہوجانا بہت ضروری ہے۔
کبھی لشکر کشی کے ذریعے ، کبھی سیاسی عدم استحکام کے ذریعے، کبھی گروہی انتشار کے ذریعے اور کبھی عالمی پابندیوں کا ہتھیار استعمال کرتے ہوئے عالمی طاقتور حلقوں کی جانب سے ایک ایک کر کے مسلمان ممالک کومفلوج کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ نہ تو اسلامی ممالک کا عالمی اتحاد کسی کام آتا ہے اور نہ ہی روایتی سفارت کاری کارگر ثابت ہوتی ہے۔ بس جیت طاقت ہی کی ہوتی ہے؛ ٹیکنالوجی کی طاقت، معیشت کی طاقت، مالی نظام کی طاقت، ذرائع ابلاغ کی طاقت اور طاقتور ہتھیاروں کی طاقت۔
مذہب کو اگر ایک طرف رکھ دیا جائے تو انسانیت ہی کافی ہے ایک ہو جانے کیلئے۔ کسی کی سر زمین پر باہر سے آ کر ڈیرے ڈالنا، پھر آہستہ آہستہ اپنی تعداد بڑھاتے ہوئے قبضے میں اضافہ کرنا، پھر مقبوضہ خطے پر اپنی ریاست قائم کرلینا،پھر منظم فوج کے ذریعے اسی سرزمین کے لوگوں کا قتل عام شروع کردینا ، اور پھر ان کو انہی کے علاقوں سے نکالتے ہوئے ایک قطعے تک محدود کر دینا؛ بدقسمتی سے اس کیلئے بھی توجیحات گھڑی جاتی ہیں اور اس ظلم کو ”اپنے دفاع “کے تناظر میں پیش کیا جاتا ہے۔
ایک طرف جدید ترین ہتھیاراور انتہائی منظم فوج اور دوسری جانب روایتی ہتھیاروں کے ساتھ اپنی سر زمین کی حفاظت کیلئے رد عمل کے نتیجے میں وجود میں آنے والی مختلف تنظیمیں؛ چلیں اگر ایک دوسرے پر حملے کو جنگ کا نام دے کر نظر انداز کر بھی دیا جائے تو دوسرے پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔گھروں میں سکون سے بیٹھے لوگ، دفاتر میں کام کرتے پروفیشنلز، سڑکوں پر احتجاج کرتے عوام، پولیس کے ظلم کے خلاف پتھر اٹھائے افراد، معصوم بچے عورتیں بزرگ، تجارتی مراکز، میڈیا ہاﺅسز، ان سب پر حملوں کو اگر جنگی جرائم کا نام نہ دیا جائے تو پھر کیا کہا جائے؟ گزشتہ چند دنوں سے جاری ظلم و ستم بھی کوئی نیا نہیں۔ ہر خاص وقت کے بعد اسرائیل کی کارروائیوں میں تیزی آتی ہے اور فلسطینیوں پر مظالم میں شدت آ جاتی ہے۔
یقیناََ شیخ جراح سے فلسطینیوں کی بے دخلی کا معاملہ حالیہ بربریت کا باعث بنا مگر دوسری جانب اسرائیل کے اندرونی سیاسی حالات بھی اس کے پیچھے ہیں۔ انتہا پسند اقدامات کے حامی شدت پسند گروہوں کی حمایت یافتہ سیاسی شخصیات اسرائیلی حکومت میں اپنی اقتدار کو طول دینے کیلئے اس کشیدگی کا سہارا لے رہی ہیں۔
امن و امان کے عالمی ادارے اور انسانی حقوقی کی بین الاقوامی تنظیمیں، سب بے بس؛ مسلمان ممالک اور ان ممالک کی عالمی تنظیم بھی بے بس؛ عالمی معاشی نظام، ملٹی نیشنل کمپنیوں کا پھیلا جالاور عالمی مالیاتی اداروں کی دلدل میں پھنسے دنیا کے اکثر ممالک، سب طاقت کے سامنے بے بس۔
ماضی مختلف تھا، ذرائع ابلاغ کے ادارے کنٹرولڈ تھے، فلسطینیوں کی آواز نہیں تھی۔ ظلم ہوتا تھا مگر پیش مختلف انداز میں کیا جاتا ۔ جنگی جرائم جاری رہتے تھے مگر انہیں Self Defence قرار دے کر justify کیا جاتا ۔ یقیناََ سوشل میڈیا پر بھی کنٹرول انہی کا ہے مگر حالات پھر بھی بدل گئے۔ سوک جرنلزم نے فلسطینیوں کی آواز کو پوری دنیا تک پھیلایا۔ یہ آواز بے حس حکمرانوں کو نظر انداز کرتے ہوئے عوام تک پہنچی۔ لوگ سڑکوں پر ہیں، مذہب نہیں بلکہ انسانیت کی بنیاد پر۔
اسرائیل کے خلاف مغربی ممالک میں بڑے مظاہروں نے طاقتور ممالک کو جھنجھوڑا ہے۔ چین، روس جیسے ممالک میدان میںہیں۔ پاکستان، ترکی اور دیگر چند ممالک بھی متحرک ہیں۔ عرب حکمران سوئے ہیں ، ان کی یہ نیند اور دانستہ خاموشی، ان کی بادشاہتوں کو بچائے گی نہیں بلکہ ختم کر دے گی۔
سفارتی دباﺅ میں اضافہ اور امن و امان کی محدود عالمی کوششیں اسی وقت کارگر ثابت ہوں گی کہ مقصد صرف وقتی جنگ بندی تک محدود نہ رہے۔ اس خطے میں پائیدار امن کے لئے فلسطینیوں کی امنگوں کے مطابق مستقل حل کی جانب پیش رفت کرنا ہو گی۔