فٹنس کے شوقین افراد اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز کے درمیان مقبول ہونے والی “کارنیور ڈائٹ” (صرف گوشت پر مبنی خوراک) کے ممکنہ نقصانات پر ماہرین صحت نے شدید خدشات کا اظہار کیا ہے۔ مشہور پوڈکاسٹر جو روگن، جو اس ڈائٹ کے بڑے حامی ہیں، پہلے اس کے باعث نظامِ ہاضمہ کے مسائل کا شکار ہو چکے ہیں لیکن اس کے باوجود انہوں نے دوبارہ اس ڈائٹ کو اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
فوکس نیوز کے مطابق یہ خوراک مکمل طور پر جانوروں سے حاصل شدہ اشیاء پر مشتمل ہوتی ہے، جن میں گوشت، انڈے اور ڈیری پروڈکٹس شامل ہیں، جبکہ سبزیاں، پھل، اناج اور دالیں مکمل طور پر خارج کر دی جاتی ہیں۔ اس ڈائٹ کو اپنانے والے افراد کا ماننا ہے کہ زیادہ پروٹین اور چکنائی کے استعمال سے وزن کم کرنے، مسلز بنانے اور صحت بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔ جو روگن کی خوراک میں زیادہ تر سٹیک، بیکن اور جانوروں کے اعضا شامل ہوتے ہیں، اور وہ بالکل کاربوہائیڈریٹس کا استعمال نہیں کرتے۔
جو روگن خود بھی اس ڈائٹ کے مضر اثرات کا اعتراف کر چکے ہیں۔ 2020 میں انسٹاگرام پر ایک پوسٹ میں انہوں نے بتایا تھا کہ انہیں شدید دست (ڈائریا) کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے مذاق میں لکھا تھا “مجھے لگتا ہے کہ اگر میں اس ڈائٹ پر چلتا رہا، تو ایک دن ایسا آئے گا جب میں ہار جاؤں گا اور میرے انڈرویئر کسی پہاڑی راستے پر مٹی کے تودے کی طرح بھر جائیں گے۔”
اسی طرح فلوریڈا کے ایک شخص نے آٹھ ماہ تک یہ ڈائٹ اپنانے کے بعد اپنی جلد پر زرد رنگ کے پیپ والے دانے (نوڈلز) بننے کی شکایت کی، جو ہاتھوں، کہنیوں اور پیروں پر ظاہر ہوئے۔ ڈاکٹروں نے اسے زینتھیلازما (Xanthelasma) نامی بیماری قرار دیا، جو خون میں چکنائی اور کولیسٹرول کی زیادہ مقدار کی وجہ سے ہوتی ہے۔
انڈیانا یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن کے ڈاکٹروں نے خبردار کیا ہے کہ کارنیور ڈائٹ گردے میں پتھری کا خطرہ بڑھا سکتی ہے۔ “دی امریکن جرنل آف کلینیکل نیوٹریشن” میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں ایک 68 سالہ شخص کا کیس بتایا گیا جس نے اس ڈائٹ سے 10 کلو وزن کم کیا لیکن بعد میں گردے کی شدید پتھری کا شکار ہو گیا۔ ڈاکٹروں نے انکشاف کیا کہ وہ کیلشیم آکزیلیٹ، کیلشیم فاسفیٹ اور یورک ایسڈ کی پتھری کے خطرے سے دوچار تھا، جو صرف ڈائٹ چھوڑنے کے بعد بہتر ہوئی۔ ماہرینِ قلب کا کہنا ہے کہ زیادہ سرخ گوشت، مکھن اور پنیر کھانے سے کولیسٹرول بڑھ سکتا ہے، جس سے دل کی بیماریوں اور فالج کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
کچھ ماہرین کے مطابق مخصوص حالات میں یہ ڈائٹ فائدہ مند ہو سکتی ہے۔ ہارورڈ کی تربیت یافتہ ماہرِ نفسیات ڈاکٹر جارجیا ایڈے نے فوکس نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ “یہ ڈائٹ خوراک سے متعلق حساسیت کی تشخیص، غیر ضروری کھانے کی عادت پر قابو پانے اور نظامِ ہاضمہ کے مسائل کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔”
