تہران: نئے سپریم لیڈر کے اعلان کے بعد امریکی اور اسرائیلی طیاروں کی ایران پر شدید بمباری کردی۔
تہران، اصفہان، تبریز اور کارگ میں دھماکوں کی گونج، یکے بعد دیگرے دھماکوں کے باعث دفاتر کی کھڑکیاں اور دروازے لرز اٹھے، گورنر اصفہان کا دفتر اور یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں بھی شامل ہیں، قدیم شاہی محل بھی نشانہ بن گیا، اصفہان میں دھماکے ایران کی نیوکلیئر سائٹس کے قریب ہوئے۔
بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی نے دعویٰ کیا کہ ایران میں افزودہ یورینیم کے ذخائر محفوظ ہیں، ایرانی فوج اور انقلابی گارڈز کی جانب سے بھی مزاحمت جاری ہے۔
ایرانی فوج کا کہنا ہے ایک ٹن سے کم وزن والا کوئی میزائل لانچ نہیں کریں گے، ایران کی طرف سے اسرائیل پر بھی کچھ جوابی میزائل داغے گئے۔
ایران کے دارالحکومت تہران پر شدید بمباری کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جس کے نتیجے میں درجنوں افراد کی شہادت کی خبر دی جا رہی ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق یہ حملے ایران پر جنگ شروع ہونے کے بعد سب سے شدید بمباری قرار دیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کرج شہر میں طاقتور دھماکوں کے بعد آسمان روشنی سے بھر گیا۔
دوسری جانب لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اسرائیلی شہر صفد میں موجود ایک ڈرون کنٹرول بیس کو میزائل حملے سے نشانہ بنایا جبکہ یفتاح بیرکس پر بھی راکٹ داغے گئے۔
ادھر بحرین میں ایک ہوٹل کی عمارت سے ڈرون ٹکرا گیا جس کے نتیجے میں عمارت میں آگ لگ گئی۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں امریکا کے ساتھ مذاکرات ایجنڈے میں شامل نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک ضروری ہوگا ایران میزائل حملے جاری رکھے گا۔
روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری جنگ جلد ختم کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں ایران سے جاری جنگ اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
روسی ایوانِ صدر کریملن کے خارجہ پالیسی کے معاون یوری اوشاکوف کے مطابق اس گفتگو کے دوران صدر پیوٹن نے ٹرمپ کو جنگ کے خاتمے کے لیے کچھ تجاویز بھی پیش کیں۔
رپورٹ کے مطابق ٹیلیفونک بات چیت میں دونوں رہنماؤں نے یوکرین کے تنازع، وینزویلا کی صورتحال اور عالمی تیل مارکیٹ پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
اس سے قبل صدر پیوٹن یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ نے عالمی توانائی بحران کو جنم دیا ہے۔
دریں اثنا روسی صدر نے حال ہی میں ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو مبارک باد کا پیغام بھیجا۔
اپنے پیغام میں پیوٹن نے کہا کہ موجودہ حالات میں ایران کو مضبوط قیادت کی ضرورت ہے اور انہیں امید ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کے مشن کو وقار کے ساتھ آگے بڑھائیں گے اور مشکل حالات میں ایرانی قوم کو متحد رکھیں گے۔
بحرین کی انٹیلی جنس ایجنسی نے ایک بھارتی شہری کو گرفتار کر لیا ہے جس پر الزام ہے کہ وہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کو حساس معلومات فراہم کر رہا تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق گرفتار شخص کی شناخت نتن موہن کے نام سے ہوئی ہے جو پیشے کے اعتبار سے ٹیلی کمیونیکیشن انجینئر ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق ملزم نے حساس جغرافیائی معلومات، تصاویر اور ویڈیوز موساد کو فراہم کیں جن میں بعض اہم اور اسٹریٹجک مقامات کی تفصیلات بھی شامل تھیں۔
بتایا جا رہا ہے کہ یہ معلومات غیر ملکی انٹیلی جنس کے لیے اہداف کے تعین اور تجزیے میں مددگار ثابت ہو سکتی تھیں۔
بحرین کی وزارتِ داخلہ نے گرفتاری کی تصدیق کر دی ہے تاہم تفتیش اور تکنیکی تفصیلات کے بارے میں مزید معلومات ابھی جاری نہیں کی گئیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور مزید حقائق سامنے آنے کے بعد تفصیلات عوام کے ساتھ شیئر کی جائیں گی۔
ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے ایک اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو ممالک امریکی اور اسرائیلی سفیروں کو اپنے ملک سے نکال دیں گے انہیں آبنائے ہرمز استعمال کرنے کی مکمل اجازت دی جائے گی۔
جاری بیان کے مطابق ایسے ممالک کو آج سے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی آزادی حاصل ہوگی۔
پاسداران انقلاب کے ترجمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کو بے معنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جنگ کے خاتمے کا فیصلہ ایران کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں سلامتی یا تو سب کے لیے ہوگی یا پھر کسی کے لیے نہیں۔
ترجمان کے مطابق اگر ایران پر حملے جاری رہے تو خطے سے ایک لیٹر تیل بھی برآمد نہیں ہونے دیا جائے گا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریپبلکن کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ ضرورت پڑنے پر امریکی بحریہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی حفاظت کرے گی۔
اس سے قبل بھی ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر حالات کا تقاضا ہوا تو امریکی نیوی کمرشل جہازوں کے ساتھ آبنائے ہرمز میں تعینات کی جا سکتی ہے۔
امریکی صدر کے بیان کے بعد پاسداران انقلاب نے ٹرمپ کو چیلنج کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ہمت ہے تو آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی حفاظت کے لیے امریکی بحری جہاز تعینات کر کے دکھائیں۔










