امریکی وزیر دفاع

ایران شدید دباؤ کا شکار، حملوں میں مزید شدت آئے گی: امریکی وزیر دفاع

واشنگٹن: امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران شدید دباؤ اور مایوسی کا شکار ہے اور وہ میزائل حملوں کے لیے سکولوں اور ہسپتالوں جیسے مقامات کا استعمال کر رہا ہے۔
میڈیا بریفنگ کے دوران امریکی جنرل ڈین کین کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے پیٹ ہیگسیتھ نے کہا کہ ایران اس وقت عالمی سطح پر تنہا کھڑا ہے اور میدان میں بری طرح پسپا ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق امریکی کارروائیوں کا بنیادی مقصد ایران کے میزائل پروگرام اور دفاعی صنعتی مراکز کو نشانہ بنا کر انہیں تباہ کرنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی بحریہ کی صلاحیت کو ختم کرنا بھی امریکی حکمت عملی کا حصہ ہے اور آج حملوں میں مزید شدت آنے کا امکان ہے، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایران کی جانب سے نسبتاً کم تعداد میں میزائل فائر کیے گئے۔

پیٹ ہیگسیتھ نے خبردار کیاکہ ایران نے اپنے پڑوسیوں پر حملے کر کے بڑی غلطی کی ہے، اگر ایران نے آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل کو روکنے کی کوشش کی تو اس کے خلاف پہلے سے کہیں زیادہ شدید کارروائی کی جائے گی۔

اس موقع پر امریکی جنرل ڈین کین نے بتایا کہ امریکی افواج ان ایرانی جہازوں کو نشانہ بنا رہی ہیں جو سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، ابتدائی 10 دنوں کے دوران ایرانی بحریہ کے 50 سے زیادہ جہازوں کو تباہ یا ڈبو دیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ ایران مزاحمت کررہا ہے، تاہم اس کی شدت توقع سے کم ہے، آبنائے ہرمز میں جہازوں کے تحفظ کی ذمہ داری ملنے کی صورت میں ممکنہ اقدامات پر بھی غور جاری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں