ذیابیطس پاکستان میں تیزی سے پھیلنے والا مرض بن چکا ہے اور کروڑوں افراد اس کے شکار ہیں، مرض پر قابو پانے کیلیے معقول غذائی چارٹ بنانا ضروری ہے جن میں چاول سرفہرست ہیں۔
ذیابیطس کے مریضوں کے جسم میں مطلوبہ اور مناسب مقدار میں انسولین بن نہیں پاتی یا جسم اسے استعمال کرنے کی صلاحیت سے محروم ہوجاتا ہے جس کیلیے خوراک کا محتاط انتخاب نہایت ضروری ہے۔
کون سے چاول کھائیں؟
ماہرینِ غذائیت کا کہنا ہے کہ ذیابیطس کے مریضوں کو سفید چاول مکمل طور پر ترک کرنے کی ضرورت نہیں، تاہم ان کے لیے ایسے چاولوں کا انتخاب زیادہ فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے جن کا گلیسیمک انڈیکس (جی آئی) کم ہو۔ کم جی آئی والی غذائیں آہستہ آہستہ ہضم ہوتی ہیں، جس سے خون میں شوگر کی سطح اچانک نہیں بڑھتی۔
ماہرین صحت نے ایسے پانچ اقسام کے چاولوں کی نشاندہی کی ہے جو سفید چاول کے مقابلے میں بہتر غذائی خصوصیات رکھتے ہیں اور ذیابیطس کے مریضوں کے لیے نسبتاً موزوں سمجھے جاتے ہیں۔
براؤن رائس کو سفید چاول کا بہترین متبادل قرار دیا جاتا ہے، اس کا گلیسیمک انڈیکس تقریباً 50 ہوتا ہے، جس کی وجہ سے یہ آہستہ ہضم ہوتا ہے اور خون میں شوگر کی سطح کو نسبتاً مستحکم رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
براؤن رائس میں فائبر، میگنیشیم اور اینٹی آکسیڈنٹس کی وافر مقدار موجود ہوتی ہے، جو دل کی صحت اور شوگر کنٹرول میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔
ریڈ رائس
سرخ چاول یا ریڈ رائس فائبر، پروٹین اور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتے ہیں، ان کا گلیسیمک انڈیکس 45 سے 52 کے درمیان ہوتا ہے، جو انہیں ذیابیطس کے مریضوں کے لیے ایک بہتر انتخاب بناتا ہے۔
اس میں موجود اینتھو سائننز سوزش کم کرنے اور انسولین کی حساسیت بہتر بنانے میں مددگار سمجھے جاتے ہیں۔
باسمتی چاول
ماہرین کے مطابق عام سفید باسمتی چاول بھی دیگر سفید چاولوں کے مقابلے میں نسبتاً کم گلیسیمک انڈیکس رکھتے ہیں تاہم براؤن باسمتی چاول زیادہ بہتر انتخاب ہیں کیونکہ ان میں فائبر، وٹامن بی اور معدنیات زیادہ مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔
باسمتی چاول سبزیوں یا کم چکنائی والے پروٹین کے ساتھ استعمال کیے جائیں تو ان کے فوائد مزید بڑھ سکتے ہیں۔
وائلڈ رائس
وائلڈ رائس دراصل روایتی چاول نہیں بلکہ گھاس کے بیج کی ایک قسم ہے، لیکن غذائیت کے لحاظ سے اسے انتہائی مفید سمجھا جاتا ہے۔
اس کا گلیسیمک انڈیکس 35 سے 40 کے درمیان ہوتا ہے، جو اسے کم جی آئی والی بہترین غذاؤں میں شامل کرتا ہے، اس میں پروٹین، فائبر، زنک اور میگنیشیم بھی وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔
بلیک رائس، (کالے چاول)
بلیک رائس یا سیاہ چاول غذائیت سے بھرپور اناج ہے جس کا گلیسیمک انڈیکس 35 سے 45 کے درمیان ہوتا ہے۔
اس میں فائبر اور طاقتور اینٹی آکسیڈنٹس موجود ہوتے ہیں جو ذیابیطس سے وابستہ پیچیدگیوں کے خطرات کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ دل اور آنکھوں کی صحت کے لیے بھی مفید سمجھے جاتے ہیں۔
ذیابیطس کے مریض چاول کس طرح پکا کر کھائیں؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف چاول کی قسم ہی نہیں بلکہ اسے پکانے اور کھانے کا طریقہ بھی اہم ہے۔
چاول زیادہ نرم کرنے کے بجائے قدرے سخت پکائیں۔
پکے ہوئے چاول رات بھر ٹھنڈا کرنے سے ان میں مزاحم نشاستہ بڑھ جاتا ہے، جس سے ان کا جی آئی کم ہوسکتا ہے۔
چاول پکانے سے قبل چند گھنٹے بھگو کر رکھنے سے نشاستے کی مقدار کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
پلیٹ کا نصف حصہ غیر نشاستہ دار سبزیوں سے بھریں۔
چاول کے ساتھ مرغی، مچھلی، دالیں، چنے یا لوبیا جیسی پروٹین والی غذائیں شامل کریں تاکہ شوگر کی سطح زیادہ متوازن رہے۔
ماہرین کے مطابق متوازن غذا، مناسب مقدار اور صحت مند طرزِ زندگی ذیابیطس کے مؤثر انتظام میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔










