ایکسولوٹل

ایکسولوٹل عالمی شہرت کے باوجود قدرتی مسکن میں ناپید

ایکسولوٹل (Axolotl) کو عام طور پر پاکستان یا اردو میں “میکسیکن سلمنڈر” کہا جاتا ہے، کیونکہ یہ مچھلی جیسے دکھائی دینے والا مگر حقیقت میں جل تھلی (amphibian) جانور ہے۔
لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان میں اس کا کوئی مقامی یا عام اردو نام معروف نہیں، کیونکہ یہ ہمارے خطے کی مخلوق نہیں ہے بلکہ صرف میکسیکو کی جھیلوں میں پایا جاتا ہے۔

عام طور پر لوگ اسے انگریزی یا سائنسی نام ایکسولوٹل (Axolotl) ہی سے پہچانتے ہیں۔ ایکسولوٹل (Axolotl) دنیا بھر میں انٹرنیٹ اور پاپ کلچر میں مقبولیت کے باوجود اپنے اصل گھر، میکسیکو سٹی کی جھیل سوچیمیلکو میں معدومی کے خطرے سے دوچار ہیں۔

یونیورسٹی آف کینٹکی کے سائنسدان ڈاکٹر رینڈل ووس کے مطابق یہ جل تھلی جانور اپنی منفرد شکل اور مسکراتے سے خد و خال کے باعث دنیا بھر میں مقبول ہیں۔ 2021 میں مائن کرافٹ (Minecraft) گیم میں شامل ہونے کے بعد ان کی شہرت میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ آج یہ نایاب جانور کھلونوں، اسٹیکرز اور حتیٰ کہ گرل اسکاؤٹ بیجز تک میں دیکھے جاتے ہیں۔

ایکسولوٹل کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ عام جل تھلیوں کے برعکس زمین پر منتقل نہیں ہوتے بلکہ ساری زندگی پانی میں گزارتے ہیں۔ ان کی شناختی علامت بیرونی گلپھڑے ہیں جو جھیل میں سانس لینے میں مدد دیتے ہیں۔ تاہم اب یہ جھیل آلودگی، غیر ملکی مچھلیوں اور بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث سخت خطرات کا شکار ہوچکی ہے۔

نیشنل آٹونومس یونیورسٹی آف میکسیکو کے پروفیسر لوئس زامبرانو کے مطابق صنعتی فضلہ، 1985 کے زلزلے کے بعد بے ہنگم آبادی اور کارپ و تلپیا جیسی مچھلیوں کی آمد نے ان کے انڈے اور مسکن دونوں تباہ کر دیے۔ انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر کے مطابق قدرتی ماحول میں ایکسولوٹل کی بالغ تعداد اب 100 سے بھی کم رہ گئی ہے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ مخلوق دنیا بھر کی لیبارٹریز اور پالتو جانوروں کی مارکیٹ میں بڑی تعداد میں موجود ہے۔ 1864 میں پہلی بار یورپ لائے جانے کے بعد سائنسدانوں نے دریافت کیا کہ یہ کم سنی میں بھی افزائش نسل کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہی خصوصیت انہیں حیاتیات اور جینیات کی تحقیق میں مرکزی حیثیت دیتی ہے۔

ماہرین کے مطابق پالتو ایکسولوٹل عام طور پر گلابی یا سفید رنگ کے ہوتے ہیں جبکہ جھیل سوچیمیلکو میں قدرتی طور پر پائے جانے والے زیادہ تر بھورے یا سیاہ ہوتے ہیں۔ پالتو اقسام جینیاتی طور پر کمزور اور قریبی نسلوں میں افزائش کا نتیجہ ہیں، اس لیے انہیں جھیل میں چھوڑ کر معدومی سے بچانا ممکن نہیں۔

پروفیسر زامبرانو کے مطابق اس نایاب جانور کو بچانے کے لیے چنامپا (تیرتے کھیتوں) کے روایتی زرعی نظام کو دوبارہ فعال بنانا ہوگا، جو کبھی ایکسولوٹل کے قدرتی مسکن کا حصہ تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر مقامی کسانوں اور عالمی سائنسی اداروں کے درمیان تعاون ہو تو یہ نایاب مخلوق محفوظ کی جا سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں