لاہور: ایک نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ خلا میں قیام انسانی اسٹیم سیلز (Stem Cells) پر منفی اثر ڈال کر انہیں عام حالات کے مقابلے میں تیزی سے عمر رسیدہ کر دیتا ہے۔ اس عمل کے دوران خلیات میں ’’ڈارک جینوم‘‘ نامی پوشیدہ ڈی این اے حصے بھی متحرک ہو جاتے ہیں، جو خلیوں کو مزید نقصان پہنچاتے ہیں۔
امریکا کی یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سان ڈیاگو کی پروفیسر اور سانفورڈ اسٹیم سیل انسٹی ٹیوٹ کی ڈائریکٹر ڈاکٹر کیٹرینا جیمیسن کی سربراہی میں کی جانے والی یہ تحقیق بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر 2021 سے 2023 کے دوران اسپیس ایکس کی چار مشنز کے ذریعے مکمل کی گئی۔
ماہرین کے مطابق اسٹیم سیلز عام طور پر جسم میں خون، دماغ اور ہڈیوں سمیت مختلف اقسام کے خلیات میں تبدیل ہو کر جسم کی مرمت اور بحالی کا کام کرتے ہیں، لیکن خلا میں یہ اپنی بنیادی صلاحیت کھو دیتے ہیں۔ خلا کی مائیکرو گریویٹی اور کائناتی شعاعیں خلیات کو ضرورت سے زیادہ فعال کر دیتی ہیں، جس کے نتیجے میں وہ توانائی کے ذخائر تیزی سے استعمال کر کے قبل از وقت کمزور ہو جاتے ہیں۔
ڈاکٹر جیمیسن نے بتایا کہ خلا میں اسٹیم سیلز اپنی نیند کی کیفیت برقرار نہیں رکھ پاتے اور فعال رہنے کے باعث تھکن کا شکار ہو کر مدافعتی نظام کو متاثر کرتے ہیں۔ بعض خلیات نے 45 دن تک خلا میں رہتے ہوئے قبل از وقت بڑھاپے کی علامات ظاہر کیں۔
تحقیق کے مطابق اس دوران خلیات نے ’’ڈارک جینوم‘‘ یا ’’ریپیٹیٹو ایلیمنٹس‘‘ کو بھی فعال کر دیا، جو ہزاروں سال پرانے وائرسز کے ڈی این اے اجزاء پر مشتمل ہیں اور انسانی جینوم کا تقریباً 55 فیصد حصہ ہیں۔ یہ عناصر خلیات کو مزید دباؤ میں ڈال کر ان کی موت یا تیز رفتار بڑھاپے کا باعث بنتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے نہ صرف خلا میں طویل قیام کرنے والے خلا نوردوں کے لیے طبی حکمت عملی تیار کرنے میں مدد ملے گی بلکہ کینسر جیسے امراض میں مبتلا مریضوں کے علاج کے لیے بھی نئی راہیں کھل سکتی ہیں، کیونکہ ان کے اسٹیم سیلز بھی اسی طرح کے دباؤ کا شکار ہوتے ہیں۔
سائنس دانوں کے مطابق خلا میں طویل قیام دوران خون اور مدافعتی نظام کو کمزور بنا سکتا ہے، تاہم زمین پر واپسی کے بعد خلیات رفتہ رفتہ اپنی حالت بحال کر لیتے ہیں۔ یہ عمل تقریباً ایک سال پر محیط ہوتا ہے۔










