والد کی

سپریم لیڈر اپنے والد کی نماز جنازہ میں خفیہ طور پر شریک تھے؛ میڈیا رپورٹ

تہرن ،ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی نماز جنازہ میں ان کے تین بیٹوں نے شرکت کی جب کہ امامت بڑے بیٹے نے کروائی تاہم ان کی جگہ سپریم لیڈر بننے والے مجتبیٰ خامنہ ای کی کمی محسوس کی گئی۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این کے مطابق مبینہ طور پر ایران کے موجودہ سپریم لیڈر اپنے والد کی نماز جنازہ میں شرکت کے لیے غیر محسوس طور پر شریک ہوئے تھے۔ History

سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی نماز جنازہ اور تدفین کی تقریب کی متعدد ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں۔ جن میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ویڈیوز میں مجتبیٰ خامنہ ای چہرے پر مسک لگائے موجود ہیں۔

اس حوالے سے سب سے زیادہ وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ نماز جنزاہ کی امامت کرنے والے بڑے بیٹے مصطفیٰ خامنہ ای کے عین پیچھے ایک شخص ماسک لگائے اور سیاہ کیپ پہنے کھڑے ہیں۔

یہ شخص مصطفیٰ خامنہ ای کے عقب میں اس طرح کھڑے ہیں کہ ان کا چہرہ میت کے بالکل سامنے آجاتا ہے گویا وہ نماز جنازہ کے نائب امام ہیں۔

سوشل میڈیا صارفین نے مختلف تصاویر اور ویڈیوز کا تقابلی جائزہ لے کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ یہی مجتبیٰ خامنہ ای ہیں جنھوں نے سیکیورٹی رسک کی وجہ سے اپنی شناخت چھپائی۔

ایک ویڈیو میں تو یہ تک دعویٰ کردیا گیا کہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنا حلیہ تبدیل کیا ہے اور داڑھی ترشوائی ہے تاکہ پہچانے نہ جائیں اور اسی وجہ سے وہ نماز جنازہ میں شرکت کرنے میں کامیاب رہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز اور دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی اور نہ ہی ایرانی حکومت نے ان افواہوں پر کوئی باضابطہ ردعمل دیا ہے۔ History

یاد رہے کہ مجتبٰی خامنہ ای اب تک منظرعام پر نہیں آئے ہیں۔ ان کی آواز، ویڈیو یا تصاویر بھی سامنے نہیں آئی ہے جبکہ ان کے بیانات بھی سرکاری ٹی وی پر اینکرز کی زبانی پڑھ کر سنائے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ جس حملے میں ان کے والد 28 فروری کو شہید ہوئے اسی حملے میں موجودہ سپریم لیڈر بھی زخمی ہوگئے تھے اور نامعلوم مقام پر ان کا علاج کیا جا رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں