ویپنگ کتنی خطرناک ہے؟ نئی تحقیق میں ایسا انکشاف کہ آپ کبھی اس کو ہاتھ نہ لگائیں

برطانیہ میں ہونے والی ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ الیکٹرانک سگریٹ (ویپنگ) صحت کے لیے اتنا ہی خطرناک ہو سکتا ہے جتنا عام سگریٹ ہوتی ہے۔ مانچسٹر میٹروپولیٹن یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق ویپنگ کے طویل مدتی اثرات دل کی بیماری، ڈیمنشیا اور اعضاء کی ناکامی جیسے مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔

برطانوی نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) کے مطابق ویپنگ کو اب تک سگریٹ نوشی سے کم نقصان دہ سمجھا جاتا رہا ہے لیکن اس نئی تحقیق نے اس تصور کو غلط ثابت کر دیا ہے۔ محققین کے مطابق ویپنگ سے خون کی شریانوں کو وہی نقصان پہنچتا ہے جو سگریٹ نوشی کے نتیجے میں ہوتا ہے، کیونکہ یہ خون کی روانی کو متاثر کرتا ہے اور شریانوں میں سوجن کا سبب بنتا ہے۔
ڈیلی سٹار کے مطابق تحقیق میں 60 رضاکاروں کو شامل کیا گیا، جن میں 25 سالہ ایڈم پیٹرولیوک بھی شامل تھا جو سگریٹ نوش نہیں تھا لیکن ہر چند منٹ بعد ویپ کا استعمال کرتا تھا۔ ایک اور شریک 33 سالہ میرین جو سگریٹ چھوڑنے کے لیے تین سال پہلے ویپنگ کی طرف آئی تھی نے کہا، “میں گھر میں سگریٹ نہیں پیتی تھی، لیکن اب سارا دن ویپ کرتی ہوں۔ میں نے محسوس کیا ہے کہ میری سانس پھولنے لگی ہے۔”

برطانیہ میں تقریباً 50 لاکھ افراد باقاعدگی سے ویپنگ کرتے ہیں، جن میں سے 10 لاکھ سے زائد ایسے لوگ ہیں جو پہلے کبھی سگریٹ نوشی نہیں کرتے تھے۔ تاہم، پبلک ہیلتھ انگلینڈ اب بھی ویپنگ کو سگریٹ نوشی کے مقابلے میں کم نقصان دہ قرار دیتا ہے۔
یہ تحقیق ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ہالی ووڈ کے معروف اداکار پال ڈینن کی حالیہ موت نے ویپنگ کے خطرات پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ 46 سالہ اداکار نے کچھ عرصہ قبل انکشاف کیا تھا کہ حد سے زیادہ ویپنگ کی وجہ سے انہیں سانس کی شدید تکلیف کا سامنا کرنا پڑا تھا اور انہیں ہنگامی طبی امداد دی گئی تھی۔

برطانوی حکومت نے جون سے ڈسپوزیبل ویپ پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے لیکن رکنِ پارلیمنٹ ریچل ماسکل نے مزید سخت اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے “یہ تحقیق واضح ثبوت فراہم کرتی ہے کہ ویپنگ صحت کے سنگین مسائل کا باعث بن سکتا ہے، حکومت کو اسے صرف تمباکو نوشی ترک کرنے کے لیے ایک طبی معاون تک محدود رکھنا چاہیے۔”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں