ہالی ووڈ کی مشہور کرائم تھرلر ایکشن مووی ہِیٹ‘ کےہدایت کار مائیکل مان شوٹنگ رینج میں گولی لگنے سے زخمی ہو گئے۔ زخمی ڈائریکٹر مائیکل مان کو فوری طور پر ایمبولینس میں ڈال کر ہسپتال لے جایا گیا۔ ہفتے کے روز شام تقریباً 4 بجے لاس اینجلس کی شوٹنگ رینج ’رینج ایل اے‘ میں اچانک ایک گولی فلم ڈائریکٹر مائیکل مان کو لگ گئی۔ مائیکل اس وقت خود فائر آرم ٹریننگ میں مصروف تھے۔ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ مائیکل کو لگنے والی گولی خود انہی کے پستول سے چلی تھی۔ مائیکل مان اپنے پستول کو ہولسٹر میں رکھ رہے تھے کہ اچانک گولی چل گئی اور ان کے پستول کی گولی انہی کی ٹانگ میں گھس گئی۔ لاس اینجلس پولیس ڈیپارٹمنٹ نے اس حادثہ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ہالی ووڈ ڈائریکٹر فائر آرم ٹریننگ کے دوران حادثاتی شوٹنگ کا نشانہ بنے۔ فائرنگ رینج پر موجود طبی عملے نے انہیں فوری طور پر ایمبولینس میں ڈالا اور ہسپتال لے گئے۔ مائیکل مان کے ترجمان سے اس واقعہ کے متعلق معلوم کرنے کے لئے رابطہ کیا گیا لیکن فوری طور پر کوئی جواب سامنے نہیں آیا۔ بعد میں ترجمان نے بتایا کہ زخم معمولی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ مائیکل مان کی ٹانگ کی سب سے بڑی رگ گولی کے زخم سے محفوظ رہی۔ ہسپتال میں ان کی حالت مستحکم ہے۔
مائیکل مان کی مووی ہِیٹ کیا ہے؟ (Heat) 1995ء میں ریلیز ہونے والی ہالی ووڈ کی ایک مایہ ناز اور کلاسک کرائم تھرلر فلم ہے۔ اس فلم کے مصنف اور ہدایت کار مائیکل مان (Michael Mann) ہیں۔ یہ فلم ہالی ووڈ کی تاریخ میں اس لیے بھی انتہائی اہم مانی جاتی ہے کیونکہ یہ پہلی فلم تھی جس کے ایک سین میں دنیا کے دو عظیم ترین اداکاروں، ال پاچینو (Al Pacino) اور رابرٹ ڈی نیرو (Robert De Niro) نے سکرین شیئر کی تھی۔
Heat کی مرکزی کہانی (Plot) کرائم تھرل مووی کی کہانی لاس اینجلس کے پس منظر میں ایک پولیس والے اور ایک شاطر چور کے درمیان چلنے والے “بلی چوہے کے کھیل” پر مبنی ہے۔ نیل میکالی (رابرٹ ڈی نیرو) ایک انتہائی ذہین، پیشہ ور اور ڈسپلنڈ چور ہے جو اپنے گینگ کے ساتھ مل کر بڑی بینک ڈکیتیوں کی منصوبہ بندی کرتا ہے۔ وہ چوری کی پلاننگ سے زیادہ بھاگنے کی پلاننگ کا ماسٹر ہے۔ اس کا اصول ہے کہ وہ کسی ایسی چیز سے دل نہیں لگاتا جسے وہ خطرہ محسوس ہونے پر 30 سیکنڈ میں چھوڑ کر بھاگ نہ سکے۔
ونسنٹ ہانا (ال پاچینو) : ایل اے پی ڈی (LAPD) کا ایک جنونی اور ضدی سرکاری جاسوس (ڈٹیکٹو) ہے، جس کی پرسنل لائف اور میرڈ لائف اس کے کام میں حد سے زیادہ ڈیڈی کیٹِڈ طرز عمل کی وجہ سے تباہ ہو رہی ہے، لیکن وہ نیل کےچور گینگ کو پکڑنے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار پھرتا ہے۔
ہِیٹ کی ہانی اس وقت دلچسپ رخ اختیار کرتی ہے رابرٹ ڈی نیرو اور ایل پچینو دونوں ایک دوسرے کی اپنے اپنے پروفیشن میں آرٹسٹک مہارت کی وجہ سے ایک دوسرے کی عزت کرنے لگتے ہیں۔ دونوں ہی جانتے ہیں کہ آمنا سامنا ہونے پر وہ ایک دوسرے کو گولی مارنے سے گریز نہیں کریں گے۔ کیونکہ اس کے سوا ان کے پاس کوئی آپشن ہو گی نہیں۔
Heat مووی کے خاص پہلو اور خصوصیات جنہوں نے اسے لیجنڈ بنایا ریستوران کا مشہور سین: فلم کا وہ منظر جہاں ال پچینو اور رابرٹ ڈی نیرو ایک کافی شاپ/ریستوران میں آمنے سامنے بیٹھ کر گفتگو کرتے ہیں۔ اس سین کے مکالموں کو بعد میں سنیما کی تاریخ کے یادگار ترین مکالموں میں شمار کیا گیا اور اب تک انہیں بے مثل مکالنے سمجھا جاتا ہے۔
حقیقی جیسا ایکشن اور گن شوٹنگ: فلم میں لاس اینجلس کی سڑکوں پر دکھائی جانے والی بینک ڈکیتی اور پولیس کے ساتھ شوٹ آؤٹ کا منظر اس قدر حقیقت پسندانہ تھا کہ امریکی میرینز کو بھی وہ منظر گولیوں کے تبادلے کی تزویراتی مثال (Bounding Overwatch Tactics) کے طور پر دکھایا جاتا رہا ہے۔ یہ دو سین درحقیقت آرٹسٹوں سے زیادہ ڈائریکٹر کی اعلیٰ مہارت کا مظہر ہیں۔ یہ ایک لطیفہ ہے کہ بینک رابری کا لیجنڈ بن جانے والی شوٹنگ کا منظر بنوانے والے مائیکل مان رئیل لائف میں “نیفے میں پستول چل جانے” سے زخمی ہو کر ہسپتال پہنچے
حقیقی کہانی سے ماخود یہ فلم ایک سچی کہانی سے متاثر ہو کر بنائی گئی ہے، جہاں شکاگو کے ایک پولیس افسر چک ایڈمسن نے نیل میکالی نامی ایک حقیقی چور کا پیچھا کیا تھا۔
کاسٹ (Cast) فلم میں ان دو بڑے اسٹارز کے علاوہ دیگر بہترین اداکار بھی شامل تھے جن میں ویل کلمر (Val Kilmer)، ٹام سیزمور (Tom Sizemore)، ایشلے جڈ (Ashley Judd)، نٹالی پورٹمین (Natalie Portman) (بچپن کے کردار میں) اور جون ووئیٹ (Jon Voight) نمایاں تھے۔ حقیقت اور تخیل کا تضاد مائیکل مان کی فلم Heat اپنی بہترین ہدایت کاری، حقیقت سے قریب تر ماحول اور اداکاروں کی شاندار پرفارمنس کے باعث آج بھی دنیا کی بہترین کرائم فلموں میں شمار ہوتی ہے۔










