حکومت اور اپوزیشن

مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد حکومت اور اپوزیشن میں پھر ڈیڈ لاک

اسلام آباد: مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد حکومت اور اپوزیشن میں پھر ڈیڈ لاک ،حکومت اور اپوزیشن مذاکرات دوسرے دور میں کامیاب ہوگئے تاہم دونوں فریقین نے مطالبات پر بات چیت کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہےتاہم دونوں فریقین میں ایک معاملے پر ڈیڈ لاک پیدا ہوگیا۔حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو گئے جس کے بعد مشترکہ اعلامیہ تیار کرلیا گیا۔
سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہونے والے مذاکرات کی میزبانی اور صدارت کر رہے ہیں، مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور اپوزیشن کے وفود مذاکرات میں حصہ لیا ۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ حکومت اور اپوزیشن مذاکرات کے دوسرے دور کا گلے شکوؤں کے ساتھ آغاز ہوا، وفاقی وزیر امیر مقام نے سہیل آفریدی کے ٹویٹ کا معاملہ اٹھایا اور کہا کہ کہ ہم نے کل اپوزیشن سے آگے بڑھنے کے لیے لانگ مارچ منسوخ کرنےکی بات کی تھی، آج سہیل آفریدی نے لانگ مارچ کا ٹویٹ کر دیا۔

اِسی طرح حکومتی وفد نے شکوہ کیاکہ سینیئر حکومتی اکابرین سے متعلق نازیبا زبان بھی استعمال کی گئی، ایسےمیں ہم کیا سمجھیں کہ اپوزیشن وفد کتنا با اختیار ہے؟

حکومت کی جانب سے وفاقی وزراء امیر مقام، رانا ثناء اللہ، محسن رضا نقوی، طلال چوہدری اور طارق فضل چوہدری مذاکرات میں شریک ہیں۔

پیپلز پارٹی کی جانب سے شیری رحمان، نوید قمر اور اعجاز حسین جاکھرانی مذاکرات میں شریک ہیں۔

اپوزیشن کی جانب سے بیرسٹر گوہر خان، راجہ ناصر عباس، عامر ڈوگر، اسد قیصر، حلیم عادل شیخ اور سلمان اکرم راجہ شریک ہیں۔

امید ہے فریقین خوشگوار ماحول میں مذاکرات آگے بڑھائیں گے: ایاز صادق

سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا کہ کل کا اجلاس بہت خوشگوار ماحول میں ہوا، آج بھی امید ہے کہ تمام فریقین خوشگوار ماحول میں مذاکرات کو آگے بڑھائیں گے۔

سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے حکومت، پیپلز پارٹی اور اپوزیشن اراکین کا شکریہ ادا کیا۔

سیاسی مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں، کوئی انتہائی قدم نہیں چاہتے: بیرسٹر گوہر

چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ ہم سیاسی مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں، یہ مذاکرات بہت اہم ہیں، تحریک انصاف ہمیشہ مذاکرات پر یقین رکھتی ہے۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا لانگ مارچ بھی ہو، جمہوریت کے لیے بات چیت ہونی چاہیے، لانگ مارچ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ چاہتے ہیں ایمرجنسی اور گورنر راج نہ لگے، چاہتے ہیں چیزیں بہتری کی طرف جائیں، کوئی انتہائی قدم نہیں چاہتے، چاہے وہ ایمرجنسی ہو یا کوئی اور صورت ہو۔

بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ کچھ وزرا نے بہت غیر ذمہ دارانہ بیانات دیئے ہیں، ایسے بیانات کی مذمت کرتے ہیں۔

مذاکرات امید کی بنیاد پر کر رہے ہیں، اچھی توقعات ہیں: شیری رحمان

نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ ہماری کوشش ہے کہ معاملات جمہوری انداز میں حل ہوں، جمہوری طریقے سے معاملات حل ہوں تو بہتری ہوتی ہے۔

شیری رحمان نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مذاکرات کی تجویز دی، جس کے بعد یہ سلسلہ شروع ہوا، اچھی توقعات ہیں، امید کی بنیاد پر مذاکرات کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم سب کو جمہوری طریقہ کار ہی اختیار کرنا چاہیے، پیپلز پارٹی ہمیشہ جمہوری طریقہ کار کو اہمیت دیتی ہے۔

شیری رحمان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ ایک محفوظ جگہ ہے، جہاں ہر بات کی جا سکتی ہے، مذاکرات کی میز پر سپیس کا مقصد معاملات کو زیر غور لانا ہے، مذاکرات کی میز پر تمام پوزیشنز پر بات ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اپنی پارٹی پوزیشن پر ہر کوئی بات کر سکتا ہے، مذاکرات کے حوالے سے ابھی کوئی بات نہیں کر سکتی، مذاکرات ہو رہے ہیں، ٹیم جو فیصلہ کرے گی ہم وہی کریں گے۔

نائب صدر پیپلز پارٹی نے کہا کہ تمام ارکان سینئر اور ہمارے لیے قابل احترام ہیں، چیئرمین بلاول بھٹو بھی اپنی پارٹی کا مؤقف پیش کر رہے ہیں، چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا بھی ہے کہ وہ پرامید ہوں۔

شیری رحمان نے کہا کہ خوشی ہے کہ چیئرمین بلاول بھٹو کے مؤقف کو تسلیم کیا گیا، فی الحال کسی کی ٹویٹس پر کوئی ردعمل نہیں دے سکتی۔

انہوں نے کہا کہ کے پی کے وزیر اعلیٰ کے ٹویٹ پر کچھ نہیں کہوں گی، ہر شخص اپنے فیصلے خود کرتا ہے، میں کچھ نہیں کہہ سکتی۔

سلمان اکرم راجا

مذاکرات سے قبل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ آج کا دن پاکستانی قوم کے لیے اہم ہے، ہم عقل کی بات کرنے آئے ہیں، ہم پاکستانی قوم کا اعتماد لے کر آئے ہیں،عوام بانی پی ٹی آئی کی رہائی دیکھنا چاہتی ہے، ہم اسیران کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں آئین و انصاف کو بحال کرنا یے، اگر یہ نہیں مانتے تو پھر ہم پاکستانی قوم کے ساتھ کھڑے ہوں گے، ہم بنیادی مطالبات ان کے سامنے کل بھی رکھ چکے ہیں آج بھی رکھیں گے، ہمارا بنیادی مطالبہ بانی پی ٹی آئی تک رسائی ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ مذاکراتی کمیٹی میں کچھ ممبران نے غیر ذمہ داری کا ثبوت دیا ہے، اپنا یکطرفہ بیانیہ میڈیا کے سامنے رکھا گیا۔

ذرائع کے مطابق حکومت نے واضح کردیا کہ احتجاج اور انتشار سے رعایتیں نہیں ملیں گی، اگر کوئی رعایت چاہئے تو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر اپوزیشن کی ہٹ دھرمی جاری رہی تو آرٹیکل 232 اور 234 بروئے کار لائے جائیں گے۔

طارق فضل چوہدری

طارق فضل چودھری نے ایکس پر لکھا کہ حکومت اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کو بامقصد اور نتیجہ خیز بنانا چاہتی ہے لیکن مذاکرات کے دوران وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی کے بیانات اس عمل کو متاثر کر سگتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی قیادت کو چاہیے کہ مزاکرات کے حتمی مرحلے تک اس قسم کی گفتگو سے اجتناب کریں جس سے اس عمل کو نقصان ہو، سہیل آفریدی جو اپنے مخالفین اور ہماری قیادت کے خلاف استعمال کر رہے ہیں وہ ایک وزیراعلی کی نہیں لگتی ، ان کی گفتگو انتہائی غیر شائستہ اور قابل مذمت ہے۔

سہیل آفریدی کا مارچ کے آغاز کا اعلان

ادھر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے اعلان کیا ہے کہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ 4 اکتوبر کو لکی مروت کے گنڈی چوک سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہوگا اور وہ خود قافلے کی قیادت کریں گے۔

گزشتہ روز پشاور میں پی ٹی آئی سیکریٹریٹ میں فنڈ ریزنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کارکنوں سے احتجاج میں بھرپور تیاری کے ساتھ شرکت کی اپیل کی۔

وزیراعلیٰ کی جانب سے اعلان کردہ شیڈول کے مطابق مارچ کا پہلا پڑاؤ کرک ہوگا، جس کے بعد 5 اکتوبر کو قافلہ کوہاٹ پہنچے گا۔

گزشتہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے پہلے دور میں ماحول کئی بار کشیدہ ہوا اور فریقین کے درمیان گرما گرمی بھی ہوئی۔

ذرائع کے مطابق حکومتی ٹیم نے واضح کیا ہے کہ اسلام آباد پر چڑھائی کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی۔

مذاکرات میں حکومت نے اپوزیشن سے باضابطہ طور پر لانگ مارچ ملتوی یا منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا، حکومت نے اپوزیشن کو عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کی یقین دہانی بھی کرائی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں