اظہاریہ قابل اظہار ہے

اظہاریہ قابل اظہار ہے
مبارک علی شمسی۔۔۔۔۔۔۔۔

الزبیر سہہ ماہی مجلہ ہے جو اردو اکیڈمی بھاول پور سے معروف قلم کار مستند تاریخ دان نقاد محقق اور ماہر تعلیم ڈاکٹر سید شاہد حسن رضوی کی ادارت میں عرصہ دراز سے شائع ہو رہا ہے اور یہ مجلہ ھائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان سے باقاعدہ تصدیق یافتہ ہے۔ اس مجلہ کا طرہْ امتیاز یہ ہے کہ اس کو سانق ریاست بھاول پور سے چھپنے کا شرف حاصل ہے جو شروع سے علم و ادب کے لحاظ سے پاکستان کے ماتھے کا جھومر رہا ہے اور نامور علمی و ادبی اور مذہبی و روحانی اور سیاسی شخصیات کی آماجگاہ رہا ہے اور یہ بھاول پور کے مایہ ناز دانشور اور صحافی محترم سید شہاب حسن دہلوی کے ہاتھ سے لگا ہوا وہ پودا ہے جو اب ایک مکمل اور تناور درخت بن چکا ہے جس کی چھاوْں سے بیشمار لوگ فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اس کی سرپرستی کمشنر بھاول پور ڈویڑن اور معتمد اردو اکیڈمی بھاول پور محترم نیئر اقبال کر رہے ہیں جبکہ ایران ترکی مصر امریکہ بھارت اور اندرون پاکستان میں کراچی اسلام آباد لاہور خیر پور میرس سندھ آزاد کشمیر بہاولنگر اور بھاول پور سے مجلس مشاورت کے ارکان شامل ہیں جن کی شب و روز محنت و ریاضت کی بدولت یہ رسالہ آپ کے ہاتھوں میں آ پہنچتا ہے۔ یہ اعلٰی درجے کا معیاری ادبی رسالہ ہے اور اس کی مقبولیت میں دن ندن اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور علمی و ادبی سیاسی و سماجی اور مذہبی و روحانی حلقوں میں اس کی پسندیدگی بڑھ رہی ہے۔ ملک کے طول و عرض میں قائم بڑی لائبریریوں میں بھی اسے بڑے شوق سے پڑھا اور پسند کیا جاتا ہے۔ بھاول پور سے شائع ہونے والے اس سہہ ماہی الزبیر کا معیاری ہونا ہی اس کی قومی و بین الاقوامی سطح پر شہرت کی بنیادی وجہ ہے جس پر ڈاکٹر سید شاہد حسن رضوی اور ان کی ٹیم خصوصی مبارک باد کی مستحق ہے جن کی شبانہ روز محنتوں اور انتھک کاوشوں کی بدولت  یہ دلکش رسالہ قارئین تک  پہنچتا ہے اس کے جاندار اور بے مثال اداریے اپنی مثال آپ ہیں جنہیں پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ بلاشبہ ڈاکٹر سید شاہد حسن رضوی ہمہ جہت ادبی شخصیت کے مالک ہیں۔ اور بڑی سے بڑی بات کو بھی اپنے مختصر انداز بیاں سے بیان کرنے کا ہنر بخوبی جانتے ہیں۔
زیر نظر کتاب بعنوان اظہاریہ ڈاکٹر مظہر حسین کی مرتب کردہ تصنیف ہے  جس میں الزبیر کے موضوعاتی اداریوں کو اکٹھا کر کے شامل کیا گیا ہے یعنی الزبیر کے 16 سالہ سفر پر روشنی ڈالی گئی ہے جس میں خصوصاً 2014 ء سے لیکر 2019 ء تک چھپنے والے رسالوں کے اداریوں کو اس خوبصورت کتاب کے صفحات کی زینت بنایا گیا ہے جس سے قاری کو 16 سال کے رسالے اسی ایک کتاب میں اداریوں کی صورت پڑھنے کو ملیں گے۔ فلیپ پر ڈاکٹر سید شاہد حسن رضوی کے فن و شخصیت پہ خورشید ناظر زاہد علی خان سیمیں کرن پروفیسر ڈاکٹر روزینہ انجم اور خود مصنف کتاب ھٰذا ڈاکٹر مظہر حسین (جو دی اسلامیہ یونیورسٹی بھاول پور کے شعبہ تاریخ میں اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں) کی تعریفی آرائیں شامل ہیں جو کتاب کی خوبصورتی کو مزید چار چاند لگانے کے ساتھ ساتھ اس کی مقصدیت کو بھی واضح کر رہی ہیں۔ اس کتاب کو4 ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔ بالترتیب جن کے نام درج ذیل ہیں۔
۔ قومی مقاصد قومی پالیسی مرکز
۔ قومی مسائل اور الزبیر
۔ اردو زبان و ادب 
۔تفردات 
ڈاکٹر مظہر حسین عرضیہ میں کچھ یوں رقمطراز ہوتے ہیں کہ
سرزمین بھاول پور کو عہد قدیم ہی سے تہذیبی و ثقافتی اور علمی و ادبی اور مذہبی و روحانی مرکز کی حیثیت سے نمایاں مقام حاصل ہے جبکہ یہاں اردو زبان کی داغ بیل قیام ریاست کے بعد ہی پڑ گئی تھی۔ خاص طور پر نواب بھاول خان اول نے جب شہر کی بنیاد رکھی تو یہاں طول و عرض سے مختلف علوم و فنون کے ماہرین کو بسایا گیا اور ان علاقوں سے کثیر تعداد میں اردو زبان بولنے والے افراد بھی یہاں منتقل ہو گئے۔ اس طرح اردو کا لگایا ہوا پودا بعد ازاں ایک چھتناور درخت میں تبدیل ہو گیا۔ اردو زبان کی یہ خوش قسمتی رہی ہے کہ اسے روز اول سے ہی قدآور اور علمی و ادبی اور صحافتی شخصیات کی سرپرستی حاصل رہی ہو گئی۔ قیام پاکستان کے بعد سرزمین بھاول پور میں فروغ اردو زبان و ادب کے نئے اور بھرپور دور کا آغاز ہوا۔ بالخصوص1954 ء میں یہاں   بابائے اردو مولوی عبدالحق کی زیر صدارت آل پاکستان اردو کانفرنس کے انعقاد سے فروغ اردو کی سرگرمیوں کو ایک نئی جہت اور جوش و ولولہ ملا اور پھر وقت نے ثابت کر دیا کہ یہاں ارفو زبان و ادب نے معیار کے نئے آفاق دریافت کیئے۔
خطہْ بھاول پور میں اردو اکیڈمی کا قیام دراصل بابائے اردو کی اسی خواہش کی تکمیل کی طرف ایک اہم قدم تھا جب انہوں نے فرمایا تھا کہ بھاول پورکے لوگ ہی اردو کو قومی زبان کی حیثیت سے عام کرنے میں نمایاں کردار ادا کریں گے۔
اس بک کا پہلا اداریہ قومی مقاصد کی تکمیل اور ادبی اداروں میں اشتراک عمل وقت کا اہم تقاضا کے عنوان سے ہے جو 2005 ء کے شمارہ نمبر6 میں شائع ہوا جس میں ملکی سطح پر مختلف اداروں اور تنظیموں کی تشکیل کے حوالہ سے ان کے بنیادی مقاصد کو مد نظر رکھنے پر زور دیاگیا ہے۔اور 2006 ء کے شمارہ نمبر 1,2 میں علاقائی زبانوں میں روابط اور ملکی استحکام کے عنوان پر شائع شدہ اداریہ شامل کیا گیا ہے جس میں علاقائی زبانوں کی ترویج اور ان کے فروغ پر حکومتی اور پالیسی میکرز کی توجہ مبذول کرانے کی بھر پور سعی کی گئی ہے اور تجاویز بھی پیش کی گئی ہیں۔ اگلا اداریہ قومی سانحات اور ہمارے ادیب کے نام سے کتاب ھٰذا میں موجود ہے جو 2007 ء کے شمارہ نمبر4 میں الزبیر کے صفحات کی زینت بنا رھا جس میں قومی سانحات کو اپنی شاعری اور نثر پاروں کا ذریعہْ اظہار بنانے پر ادباء کو خراج تحسین پیش کیا گیا ہے۔2008 ء کے شمارہ نمبر 4 میں تحقیقی عمل زوال کا شکار کیوں کے موضوع پر لکھے گئے اداریہ میں شاہد حسن رضوی کچھ یوں گویا ہوتے ہیں کہ تخلیق اور تحقیق کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ دو متضاد عوامل ہونے کے باوجود یہ دونوں دھارے ساتھ ساتھ بہتے ہیں ایک اچھی تخلیق کے پس پردہ ایک طویل تحقیقی عمل موجود ہوتا ہے اور ایک اچھی تحقیق کئی نئی تخلیقات کیلئے بنیادیں فراہم کرتی ہے لیکن ہمارے ہاں تخلیق اور تحقیق دونوں عوامل ہی حالات گردی کا شکار ہیں۔ جبکہ ثقافتی تصادمات اور ہمارے ادبی رسائل علاقائی مطالبہ جات بمقابلہ عالمگیریت۔ قومی مقاصد تعین نفاذ اور خود احتسابی کی ضرورت۔ ایمان اتحاد اور نظم و ضبط انفرادی و اجتماعی تقاضے علاقائی زبانوں کے حوالے سے قومی مرکز برائے تحقیق کے قیام کی ضرورت تحقیق میں پورے سچ کی اہمیت قومی دارالترجمہ کے قیام کی ضرورت جیسے بے مثال اداریے بھی اس کتاب کا حصہ ہیں اور برادرم سید شاہد حسن رضوی کی انتھک محنتوں اور علم و ادب کے فروغ کیلئے لازوال کاوشوں کا ایک جیتا جاگتا اور منہ بولتا ثبوت ہیں۔ علاوہ ازیں نفاذ اردو احساس ابلاغ سے عمل درآمد تک سوشل میڈیا اکیسویں صدی استحکام پاکستان میں شعراء کا کردار۔ سلگتا اپنا گھر۔ حالات کی نئی کروٹ۔ دہشتگردی۔ فکری ضرب عضب۔ فکری امن۔ اردو رسم الخط۔ اردو زبان کی بقاء کا ضامن۔ ہم کہاں ہیں اور مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ بھی اپنی مثال آپ ہیں اور اپنے اندر ایک خاص قسم کی مقصدیت سموئے ہوئے ہیں۔ اور یہی وہ بات ہے جو الزبیر کو معیار کے لحاظ سے دیگر مجلوں میں ممتاز کرتی ہے۔ تاہم اگلا مکمل باب اردو زبان و ادب۔ رسم الخط۔ اردو زبان میں تراجم کا کردار۔ ترویج و نفاذ اور بڑھتی ہوئی بین الاقوامیت اور اردو ادب جیسے تحقیقی تاریخی اور سیر حاصل مطالعاتی مضامین بھی اداریہ کی صورت کتاب ھٰذا میں موجود ہیں۔ اس لیئے یہ بات بڑے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ ڈاکٹر مظہر کی یہ کتاب اظہاریہ تحقیقی تاریخی معاشرتی جغرافیائی تہذیبی روحانی طبی اور علمی و ادبی میدانوں میں قارئین کیلئے اور خصوص بالخصوص نو وارد طالب علموں کیلئے ایک مشعل راہ ثابت ہو گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جمال پور: چیئرمین پریس کلب سید مبارک علی شمسی اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں جبکہ صدر سید ذوالفقار حسین بخاری اور سیکرٹری اطلاعات مہر محمد امین انجم ساتھ بیٹھے ہیں۔