ببوبرال؛مزاح کے بادشاہ ، باکمال نقال اورگلوکارکوبچھڑے 15برس بیت گئے

مزاح کے بادشاہ اورتھیٹرکے نامور اداکار ببوبرال کو مداحوں سے بچھڑے 15برس بیت گئے ، وہ 16 اپریل 2011 ء کو51سال کی عمرمیں اپنے چاہنے والوں کو اداس چھوڑ کرراہی ملک عدم ہوگئے تھے مگر ان کے چٹکلے آج بھی روتے ہوؤں کو ہنسا دیتے ہیں۔
1959ء کو گوجرانوالہ کے قصبے گھکھڑ منڈی میں پیدا ہونے والے ببوبرال کا اصل نام ایوب اختر تھا،فنی کیریئرکاآغاز1980ء میں ہدایت کارجبارشاہ کے ڈرامہ ’’بکھے ہتھ بٹیرا‘‘ سے کیا جسے گوجرانوالہ میں پیش کیا گیا تھا،اس ڈرامہ میں مستانہ ، سہیل احمد اوراعوان جی نے بھی فن کا مظاہرہ کیا تھا۔
گوجوانوالہ میں صلاحیتوں کومنوانے کے بعدببوبرال 1987ء میں لاہورآگئے اور ناہید خانم کے ڈرامہ ’’سن بابا سن‘‘سے شہرت ملی، ابتداء میں وہ ون مین شو کیا کرتے تھے، تاہم اسٹیج ڈرامے’’شرطیہ مٹھے‘‘سے ملک گیرشہرت پائی اور صف اوّل کے اداکاروں میں شمارہونے لگے۔
ببوبرال کولاہور میں متعارف کرانے میں مرحوم اداکار فخری احمد کا اہم کردارتھا،انہوں نے بطور کامیڈین متعدد پنجابی فلموں میں بھی کام کیا اور اپنے فن کا لوہا منوایا،گیتوں کا ایک البم بھی ریکارڈکرایاجسے بہت پسند کیاگیا،ان کی آوازمیں ویرسپاہی کالکھاہواکلام’’بیتیاں رتاں‘‘بہت مقبول ہواتھا۔
ببوبرال نہ صرف مزاحیہ اداکاربلکہ باکمال نقال اورگلوکاربھی تھے،منورظریف کے بعد میوزیکل کامیڈی کی، اُستادبڑے غلام علی خان ،اُستاد عاشق علی خان، اُستاد کالے خان ،اُستاد سلامت علی خان ،اُستاد نزاکت علی خان ،اُستاد امانت علی خان ، اُستاد فتح علی خان سے لیکرملکہ موسیقی روشن آراء بیگم ، پروین سلطانہ ، اُستاد حسین بخش گلو،زاہدہ پروین ، ثریا ملتانیکر اورپٹھانے خان تک کی گائیکی کواس قدر خوبصورتی سے پیش کرتے کہ سننے والے ششدررہ جاتے،انہیں سہگل،ملکہ ترنم نورجہاں، لتا منگیشکر، آشا بھوسلے ،کشور کمار، مہدی حسن ، محمد رفیع ، مناڈے ،مکیش ،مسعودرانا،مالا بیگم ،عنایت حسین بھٹی ،ناہید اختر،منیرحسین اورہری ہری کے اندازگائیکی پربھی مہارت حاصل تھی،طبلہ، ڈھولک اور ہارمونیم بجانے کی باقاعدہ تربیت لی ہوئی تھی ۔
ببو برال کی زندگی کی آخری فلم’’ چناں سچی مچی ‘‘تھی،کچھ عرصہ امریکہ میں بھی گزاراتھا، ہندوستان جا کر بھی فن کا مظاہرہ کیا ، مستانہ کے ساتھ ان کی جوڑی بہت ہی مقبول ہوئی تھی اوردونوں نے مل کر کئی لازوال اسٹیج ڈرامے کئے اور ایک مشترکہ فلم بھی کی،اتفاق سے دونوں ایک ہی سال اورایک ہی مہینے میں دنیا سے بھی رخصت ہوئے۔
تین عشروں پر محیط فنی زندگی میں ببوبرال نے 20 فلموں میں بھی کام کیا،اداکاری کے علاوہ سٹیج ڈرامے لکھے اور ہدایات بھی دیں، جگر کے کینسر، گردوں کے امراض اور شوگرکے باعث آخری چندسال بہت تکلیف میں گزرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں